بلوچستان کے ضلع کیچ میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب کراچی سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ اور بعد ازاں جیل میں قید کاٹنے والے زاہد بارک زئی رہا ہوگئے ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق ضلع کیچ کے علاقے مند (نوکن خاں ولیج) سے پاکستانی فوج نے شبانہ چھاپے کے دوران دو سگے بھائیوں کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
فہد ولد مہراج (عمر 27 سال)، پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں، جنہیں 21 اکتوبر 2026 کی رات ان کے گھر سے پاکستانی فوج نے حراست میں لیا۔
اسد ولد مہراج (عمر 33 سال)، یہ بھی پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں، جنہیں فہد کے ساتھ ہی 21 اکتوبر 2026 کی شب نوکن خاں ولیج مند سے گھر پر چھاپے کے دوران لاپتہ کیا گیا۔
دوسری جانب جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے زاہد بارکزئی ولد محمد نسیم (سکنہ گل محمد لین لیاری، کراچی) رہا ہو گئے۔
زاہد بارکزئی کو 27 جنوری 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
طویل قید کے بعد انہیں 22 اکتوبر 2026 کو سینٹرل جیل کراچی سے رہا کر دیا گیا ہے۔