بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت میں پاکستانی فوج کی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک مزدور ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ پسنی اور تربت سے دو نامعلوم لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
ضلع کیچ کے علاقے دشت چیری کنچتی میں کھیتوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو پاکستانی فوج کی جانب سے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک مزدور ہلاک جبکہ چھ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والے مزدور کی شناخت حفیظ خان ولد ملا عبداللہ (سکنہ کچلاک، کوئٹہ) کے نام سے ہوئی ہے۔
زخمی ہونے والے مزدوروں میں حکیم ولد ناصر خان، عزت ولد محمد اکبر، گل عالم ولد نور محمد، احسان اللہ ولد محمد عالم، محمد عالم ولد نور محمد، اور رحمت اللہ ولد محمد اکبر شامل ہیں، جن کا تعلق بھی کوئٹہ سے ہے۔
مقامی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں متاثر ہونے والے تمام مزدوروں کا تعلق پشتون قوم سے بتایا جاتا ہے۔
واقعے کے بعد لاش اور تمام زخمیوں کو ضروری قانونی کارروائی اور طبی امداد کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ اس واقعے کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
دوسری جانب ضلع گوادر کے تحصیل پسنی میں کلانچ لنک روڈ پر تلار ہوٹل کے قریب سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقتول نوجوان کی جیب سے ایک پرچی ملی ہے جس پر "ریحان” کا نام درج ہے، تاہم نوجوان کی مکمل شناخت اور موت کی وجوہات کے بارے میں تاحال کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
تیسرے واقعے میں، مبینہ طور پرتربت کے علاقے میں صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر جوسک تھانے کے ایس ایچ او دورانِ گشت موٹر سائیکل پر سوار تین نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کی زد میں آ گئے۔
دعویٰ کیا گیا کہ پولیس کی جانب سے فوری جوابی فائرنگ کی گئی جس کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد جب ندی کے علاقے کی تلاشی لی گئی تو سری کہن ندی سے ایک اور لاش برآمد ہوئی۔
پولیس کی جانب سے لاش کی شناخت اور اس واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔