بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگی کے شکار نوجوانوں کو دورانِ حراست جعلی مقابلوں میں قتل کرنے کے المناک واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تازہ ترین تفصیلات کے مطابق 20 سالہ طالب علم سدیس کو تین ماہ کی جبری گمشدگی کے بعد سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا، جبکہ 16 سالہ چرواہا حسان بھی 41 روز تک غائب رہنے کے بعد ہلاک حالت میں پایا گیا۔
کوئٹہ کے علاقے کلی اسماعیل (لنگوہ محلہ، مدرسہ روڈ) کے رہائشی 20 سالہ طالب علم سدیس ولد محمد اشرف کو 20 مئی 2026 کی رات تقریباً 2:00 بجے ان کے گھر سے زبردستی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
سدیس کا مقدمہ محکمہ داخلہ کے تحت کام کرنے والی مسنگ پرسنز کمیٹی میں پیش کیا گیا تھا۔ 16 اکتوبر 2026 کو کمیٹی کی پہلی سماعت کے دوران اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ تاہم، 21 اکتوبر 2026 کو ہونے والی دوسری سماعت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ سدیس کو 20 اگست 2026 کو قلعہ عبداللہ کے علاقے اغبرگ میں ایک جعلی مقابلے میں ہلاک کر کے "دہشت گرد” قرار دیا جارہا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق اس انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ سدیس کو ان کے گھر سے اٹھانے کے ٹھیک تین ماہ بعد قتل کیا گیا، جبکہ اس دوران ان کے اہلِ خانہ کو سرکاری کمیٹی کے سامنے اندھیرے میں رکھا گیا۔
بی وائی سی نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر وہ کسی جرم میں مشکوک تھے تو انہیں کبھی عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ اور آدھی رات کو گھر سے اٹھایا جانے والا نوجوان تین ماہ بعد اچانک کسی مسلح مقابلے میں کیسے ہلاک ہو سکتا ہے؟
تنظیم کے مطابق یہ ایک منظم طریقہ کار ہے جس کے تحت لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مار کر دہشت گرد ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ ماڈل کلنگ اور غیر قانونی کارروائیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔
بی وائی سی نے سدیس کے قتل کی آزادانہ جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
ضلع کیچ کے علاقے مند (ریک بازار) کے رہائشی 16 سالہ نوجوان اور چرواہے حسان ولد جمعہ کو فرنٹیئر کور (FC) نے اس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا جب وہ مند سے تمپ سفر کر رہے تھے اور دوپہر کے وقت ازیان کے قریب انہیں دن کی روشنی میں حراست میں لیا گیا۔
گمشدگی کے 41 روز بعد، 14 اکتوبر 2026 کو حسان کی لاش مند (مکاہندر) کے علاقے سے پھینکی ہوئی ملی۔ کم سن حسان ایک سادہ زندگی گزارنے والا اور محنت مزدوری کرنے والا چرواہا تھا، جن کی زندگی انتہائی تشویشناک حالات میں ختم کر دی گئی۔
بی وائی سی نے حسان اور سدیس کے واقعات کو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کی ہولناک تصویر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر معاملے کے پیچھے ایک برباد خاندان اور ایک کچلا ہوا مستقبل موجود ہے۔
بی وائی سی نے قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ حسان اور دیگر تمام متاثرین کی جبری گمشدگیوں اور ماڈل کلنگ کا سختی سے نوٹس لیں، کیونکہ ہر انسان کو زندگی، وقار اور انصاف کا بنیادی حق حاصل ہے۔