نوکاپ جان صرف ایک شخص کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ ایک سیاسی فکر، ایک نظریے اور ایک جدوجہد کی علامت تھے۔ نوکاپ جان کولواہ کی پہچان تھے۔ وہ کولواہ کی مٹی سے اٹھنے والے ایسے سپوت تھے جنہوں نے اپنی فکر، اپنے کردار، اپنی انسان دوستی اور اپنی قربانی سے اس سرزمین کا نام روشن کیا۔
آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی یاد، ان کا کردار اور ان کی سیاسی فکر آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ ہم ان کی سچائی، بے لوث خدمت اور جدوجہد کو احترام و عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ شاشان کے پہاڑ آج بھی جیسے انہیں یاد کرتے ہیں۔ وہ چٹانیں، وہ وادیاں اور وہ راستے، جہاں کبھی ان کے قدم پڑتے تھے، آج بھی ان کی جدوجہد کی داستان سناتے محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی آواز شاید خاموش ہو گئی ہو، مگر ان کے خیالات کی بازگشت آج بھی ان پہاڑوں میں سنائی دیتی ہے۔
نوکاپ جان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ان کی انسان دوستی تھی۔ جب کوئی بیمار ان کے اسٹور پر پہنچتا تو ان کی مسکراہٹ ہی اس کے لیے امید کا پیغام بن جاتی۔ ان کے چہرے پر اپنائیت، خلوص اور محبت کی ایسی جھلک ہوتی کہ بیمار اپنے درد کو بھی کچھ دیر کے لیے بھول جاتا۔ وہ صرف دوا نہیں دیتے تھے، بلکہ اپنے اخلاق اور مسکراہٹ سے بھی لوگوں کے دلوں کو سکون پہنچاتے تھے۔
نوکاپ جان! آپ کی والدہ آج بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہیں اور فخر سے کہती ہیں کہ: "مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔” ایک ماں کے لیے یہ کتنے عظیم حوصلے اور فخر کی بات ہے کہ وہ اپنے شہید بیٹے کی یاد کو صبر، استقامت اور فخر کے ساتھ اپنے دل میں زندہ رکھے۔ یہ آپ کی تربیت، آپ کے کردار اور آپ کے خاندان کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ نے اپنے سیاسی سفر میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا۔ پریشانیاں دیکھیں، آزمائشیں برداشت کیں اور کٹھن حالات سے گزرے، لیکن آپ کے عزم اور حوصلے میں کبھی کمی دکھائی نہ دی۔ آپ کی گفتگو، آپ کے خیالات اور آپ کا اندازِ بیان لوگوں کو سوچنے اور سوال کرنے پر آمادہ کرتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آج بھی آپ شاشان کی کسی بلند چٹان پر کھڑے ہیں، اپنی فکر اور نظریے کا اظہار کر رہے ہیں، اور ہم سب خاموشی سے آپ کی باتیں سن رہے ہیں۔ وقت گزر گیا، مگر آپ کی یادیں اور آپ کے خیالات آج بھی ذہنوں میں تازہ ہیں۔
آپ کا جسمانی سفر اختتام پذیر ہوا، مگر آپ کی فکر کا سفر جاری ہے۔ نوکاپ جان! آپ کی زندگی اور جدوجہد ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان صرف اس کی زندگی نہیں، بلکہ وہ کردار، سوچ اور یادیں ہیں جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔
آپ کی یاد کولواہ کے لوگوں کے دلوں میں، شاشان کی فضاؤں میں اور ان تمام ذہنوں میں زندہ رہے گی جو سیاسی فکر، انسانی خدمت اور اصولی جدوجہد کو اہمیت دیتے ہیں۔
نوکاپ جان! آپ ایک فرد تھے، مگر آپ کی یاد ایک داستان ہے۔ آپ ایک آواز تھے، مگر آپ کی فکر ایک تسلسل ہے۔
***