بلوچ عورت،محاذ آزادی کا ہمراہ دار | رامین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
31 Min Read

قسط : 3 (آخری قسط)

گزشتہ سے پیوستہ

شعور کا ارتقاء انسانی تاریخ کے ساتھ ساتھ چلنے والا ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ کوئی جامد کیفیت نہیں بلکہ انسانی تجربے، محنت، مشاہدے، زندگی اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تشکیل پانے والا عمل ہے۔ انسان اپنے ماحول کو محض قبول نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ تعامل کرتا ہے، اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اسے تبدیل کرتا ہے اور اسی تبدیلی کے عمل میں خود بھی تبدیل ہوتا ہے۔ یوں انسانی شعور اور مادی حالات کے درمیان ایک مسلسل جدلیاتی رشتہ قائم رہتا ہے۔ انسان حالات پیدا کرتا ہے اور پھر وہی حالات انسانی فکر، رویوں اور اجتماعی شعور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں انسانی تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ سمجھنا کافی نہیں۔ تاریخ دراصل انسان اور اس کے بنائے ہوئے سماجی ڈھانچوں کے درمیان مسلسل تعامل کی داستان ہے۔ ہر عہد اپنے مخصوص معاشی، سماجی، سیاسی، ثقافتی اور اخلاقی تصورات پیدا کرتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ جب انسانی تجربہ ان تصورات کی حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو پرانے تصورات اور نئے تجربات کے درمیان تضاد پیدا ہوتا ہے۔ یہی تضاد سماجی تبدیلی کی بنیادی قوتوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جدلیات کا تصور انسانی تاریخ کو سمجھنے میں اہم ہو جاتا ہے۔ جدلیات کا مطلب محض تصادم نہیں بلکہ متضاد قوتوں، خیالات اور حالات کے باہمی تعلق، کشمکش اور تبدیلی کے عمل کو سمجھنا ہے۔ انسانی شعور بھی اپنے تاریخی تجربے سے گزرتا ہوا وسیع ہوتا ہے۔ جس چیز کو ایک زمانے میں ناقابلِ سوال سمجھا جاتا ہے، اگلے زمانے میں وہی چیز انسانی تجربے اور نئے سوالات کے سامنے قابلِ بحث بن سکتی ہے۔

ٹیڈ گرانٹ سے منسوب یہ خیال کہ ’’مادہ انسانی ذہن میں آ کر اپنے بارے میں باشعور ہو گیا‘‘ اسی تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان فطرت سے الگ کوئی ماورائی وجود نہیں بلکہ خود مادی دنیا کی تاریخی نشوونما کا حصہ ہے۔ انسانی شعور اسی مادی دنیا سے پیدا ہوتا ہے، لیکن ایک مرتبہ پیدا ہونے کے بعد وہ محض اس کا عکس نہیں رہتا؛ وہ عمل، تخلیق اور تبدیلی کی صلاحیت بھی حاصل کرتا ہے۔ انسان اپنے حالات کو سمجھ کر ان کے ساتھ اپنے تعلق کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی عمل تاریخ کو متحرک رکھتا ہے۔

تحریکیں، جنگیں، بحران اور تصادم بھی اسی تاریخی عمل کے پیچیدہ مظاہر ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر جنگ لازماً ترقی پیدا کرتی ہے لیکن آزادی کی تحریکیں فطری اور منطقی طور پرآزادی اور سماجی تعمیرِ نو کا راستہ کھولنے کے لے لڑی جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی تحریکیں اور جنگیں بھی گزری ہیں جن کے نتائج پیچیدہ، متضاد یا تباہ کن رہے۔ تاہم انقلابی جنگیں، آزادی کی تحریکیں اور قومی تنازعات، خصوصاً نوآبادیاتی اور استعماری حالات میں، اکثر ایسے تضادات کو نمایاں کر دیتے ہیں جو معمول کے حالات میں پسِ منظر میں چھپے رہتے ہیں۔

ایسی جنگیں اور تحریکیں صرف سیاسی یا تزویراتی نقشے نہیں بدلتی بلکہ سماجی شعور، تعلقات، اقدار اور شناختوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ انہیں سماج کی ایک قسم کی ’’جراحی‘‘ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ جس طرح جراحی کے عمل میں جسم کے اندر موجود خرابی، جو بظاہر پوشیدہ ہوتی ہے، سامنے آتی ہے، اسی طرح تحریکیں بھی مسلط نوآبادیاتی نظام سے جنم لینے والے تضادات کو نمایاں کرتی ہیں۔ طبقاتی تعلقات، صنفی تقسیم، استعمار کے مراکز اور روایتی تصورات زیادہ واضح شکل میں سامنے آتے ہیں۔اسی مرحلے پر سماج کے مختلف حصوں کے درمیان یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی اقدار تاریخی طور پر تشکیل پائی ہیں اور کن اقدار کو ابدی اور ناقابلِ تغیر سمجھنے کی کوئی لازمی وجہ نہیں۔

بلوچ سماج کو بھی اسی تاریخی اور جدلیاتی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سماج کی تشکیل محض ایک ہی عہد یا دور کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف تاریخی تجربات، قبائلی اور نوآبادیاتی حالات، مذہبی تصورات، استعماری مداخلتوں، جنگوں، سیاسی حالات، ادبی روایتوں اور اجتماعی تجربات کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے۔ کسی بھی سماج کی موجودہ صورت دراصل ان تمام تاریخی تہوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔

عورت کا مقام اس تاریخی تشکیل کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت اہم زاویہ فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے بہت سے معاشروں کی طرح بلوچ سماج میں بھی عورت کے بارے میں تصورات محض حیاتیاتی فرق سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ تاریخی طور پر فرسودہ قبائلی، نوآبادیاتی اور مذہبی تعبیرات نے ان کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے۔ بعض ادوار میں مذہبی تعبیرات، فرسودہ سماجی روایات، عزت و ناموس کے تصورات اور صنفی تقسیم نے عورت کے دائرہئ زندگی کو محدود کیا۔ عورت کی نقل و حرکت، تعلیم، سیاسی و جنگی سرگرمی اور عوامی زندگی میں شرکت کے بارے میں مختلف پابندیاں اور تصورات پیدا ہوئے۔

یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے: مذہب، مذہبی تعلیم اور مذہب کی مخصوص تاریخی تعبیر یا سنڈیمن و استعمار کی تخلیق کردہ قبائلی ڈھانچہ کوو ایک ہی چیز سمجھ لینا علمی طور پر درست نہیں۔ اسی طرح کسی ایک سماجی روایت کو پورے بلوچ سماج کی یکساں نمائندگی سمجھنا بھی درست نہیں۔ سماج ہمیشہ متنوع ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک ہی وقت میں مختلف، بلکہ بعض اوقات باہم متصادم، تصورات موجود رہتے ہیں۔

بلوچ عورت کے بارے میں ’’ننگ و ناموس‘‘ جیسے تصورات بھی اسی پیچیدگی کا حصہ ہیں۔ ایک طرف یہ تصورات سماجی شناخت اور اخلاقی ذمہ داری کے اظہار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں، دوسری طرف جب عورت کی عزت کو اس کی اپنی خودمختاری کے بجائے خاندان یا مردانہ سماجی اختیار سے جوڑ دیا جائے تو یہی تصور عورت کی آزادی پر پابندی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عزت کا مرکز عورت کی اپنی شخصیت اور اختیار ہے یا اسے کسی دوسرے فرد یا اجتماعی ڈھانچے کی ملکیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں سیاسی اور سماجی شعور نے بلوچ عورت کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ نتیجتاً روایتی صنفی تصورات اور نئے تجربات کے درمیان ایک نیا تضاد پیدا ہونا فطری ہے۔ بلوچ عورت جب گھر کی محدود دنیا سے نکل کر سیاست، صحافت، سماجی سرگرمی، تنظیمی عمل اور قومی جدوجہد کے مختلف میدانوں میں نظر آنے لگی تو اس تبدیلی کا اثر صرف عورت کی ذات تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر پڑا۔

آج جب بلوچ عورت اپنے سیاسی اور سماجی اختیار کے اظہار کے لیے سامنے آتی ہے تو قدامت پسند اور نوآبادیاتی ذہنیت رکھنے والی قوتوں کی جانب سے اس کے کردار پر مختلف سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ کبھی اسے ’’برین واشنگ‘‘ کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے، کبھی بیرونی فنڈنگ، بلیک میلنگ، نفسیاتی دباؤ یا جذباتی اثرات سے جوڑا جاتا ہے۔ ان دعووں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عورت کو ایک خودمختار سیاسی اور فکری فاعل کے طور پر دیکھنے سے انکار کرتے ہیں۔

بلوچ عورت کے فیصلوں کو سمجھنے کے لیے اس کی اپنی جدوجہد، اس کے تجربات، اس کے سماجی اور قومی حالات اور اس کے بیان کردہ محرکات کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد کے سیاسی فیصلے کو محض اس بنیاد پر غیر معتبر قرار دینا کہ وہ عورت ہے، خود ایک صنفی تعصب ہے۔

سماجی تبدیلی ہمیشہ باہر سے نہیں آتی۔ بعض اوقات سب سے بڑی تبدیلی سماج کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔ نئی نسل پرانے سوالات کو نئے انداز میں پوچھتی ہے، پرانے تجربات کو نئے مفہوم دیتی ہے اور ان حدود کو دوبارہ پرکھتی ہے جنہیں گزشتہ نسلیں شاید ناقابلِ سوال سمجھتی رہی ہوں۔ اسی عمل میں تہذیب اپنے اندر سے نئی شکلیں پیدا کرتی ہے۔

اس پورے عمل میں ریاست، سماج، روایت، مذہب، خاندان اور فرد کے درمیان تعلقات بھی ازسرِنو زیرِ بحث آتے ہیں۔ جو تبدیلی ایک فرد کے لیے آزادی کا اظہار ہے، وہ کسی دوسرے کے لیے روایت کے ٹوٹنے کا احساس ہو سکتی ہے۔ یہی تضاد سماجی تبدیلی کو پیچیدہ بناتا ہے، مگر اسی پیچیدگی میں تاریخ کی حرکت پوشیدہ ہوتی ہے۔

شعور کا ارتقاء کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے کی ملکیت نہیں۔ یہ انسانی تجربے کا اجتماعی نتیجہ ہے۔ سماج اپنے تضادات سے گزرتا ہے، اپنے پرانے تصورات کو نئے تجربات کے سامنے رکھتا ہے اور پھر کسی نئی فکری صورت کی طرف بڑھتا ہے۔ تاریخ کے بڑے نتائج اکثر اپنے ابتدائی لمحوں میں واضح نہیں ہوتے۔

اسی لیے بلوچ سماج میں عورت کے بدلتے ہوئے کردار کو بھی ایک وسیع تاریخی عمل کے اندر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ محض عورت کا سوال نہیں بلکہ سماج کی تعریف، اختیار کی تقسیم، روایت کی حدود، جدیدیت کے اثرات اور انسانی خودمختاری کے تصور سے متعلق سوال ہے۔ جب سماجکا کوئی ایسا حصہ جو طویل عرصے تک محدود دائرے میں رکھا گیا ہو، وہ جسمانی طور پر آزادی کے محاذ پر نمودار ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف اسی حصے تک محدود نہیں رہتے۔

انسانی قدر میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی، سماجی اور ملکیتی حقوق میں بھی جنس کی بنیاد پر کوئی بنیادی امتیاز قابلِ دفاع نہیں۔ ذہانت، عزم، حوصلہ، محبت، تخلیق، قربانی اور بہادری کسی ایک جنس کی جاگیر نہیں۔جس طرح ایک مرد اپنے وطن، اپنی قوم،، اپنے نظریے یا اپنے مقصد کے لیے قربانی دے سکتا ہے، اسی طرح ایک عورت بھی اپنی پوری ہستی کے ساتھ قومی مقصد کے لیے کھڑی ہو سکتی ہے، مزاحمت کر سکتی ہے اور تاریخ کے دھارے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ جنس کا فرق ایک حیاتیاتی حقیقت ہو سکتا ہے، لیکن اسے انسانی قدر، سیاسی اختیار اور اخلاقی مرتبے کی درجہ بندی کا پیمانہ بنا دینا نہ اخلاقی طور پر قابلِ دفاع ہے، نہ منطقی طور پر اور نہ انسانی تجربے کے اعتبار سے۔جسم کا فرق انسان کی قدر کا فرق نہیں ہوتا؛ جیسے قد کا فرق عقل کا فرق نہیں، آواز کا فرق شعور کا فرق نہیں اور جسمانی ساخت کا فرق انسانی وقار کا فرق نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسانی سماج نے عورت اور مرد کے قدرتی فرق کو سماجی درجہ بندی میں تبدیل کر دیا۔ فطرت نے جنسوں میں فرق پیدا کیا، مگر سماج نے ان فرقوں کے گرد تسلط کی ایک پوری عمارت کھڑی کر دی۔ عورت کو ایک مکمل انسان کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے کسی رشتے، خاندان، قبیلے، مرد یا اجتماعی عزت کے ساتھ باندھ دیا گیا۔اس طرح عورت کی اپنی ذات پس منظر میں چلی گئی اور اس کے گرد کرداروں کی ایک ایسی دیوار تعمیر ہوئی جس میں بیٹی، بہن، بیوی، ماں، عزت، حیا، ناموس اور غیرت تو موجود تھے، مگر انسان کہاں تھا؟ فرد کہاں تھا؟ اس کی اپنی مرضی، خواہش، اختلاف، فیصلہ اور خواب کہاں تھے؟

یہیں سے ’’مستورات‘‘ کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ عورت پیدا ہوئی تھی، مستورات نہیں۔ فطرت نے عورت کو جسم دیا، سماج نے اس جسم کے گرد معنی بنائے۔ فطرت نے اسے خواہش دی، سماج نے خواہش کو شرم بنا دیا۔ فطرت نے اسے محبت دی، سماج نے محبت کو غیرت کا مسئلہ بنا دیا۔ فطرت نے اسے اختلاف کی صلاحیت دی، سماج نے اختلاف کو بغاوت بنا دیا۔ فطرت نے اسے اختیار دیا، سماج نے اختیار کو خاندان کی عزت کے خلاف قرار دے دیا۔یوں ایک زندہ انسان کو ایک سماجی کردار میں تبدیل کر دیا گیا اور پھر اس کردار کو اتنا مقدس بنا دیا گیا کہ خود انسان اس کے اندر گم ہو گیا۔

یہاں ’’غیرت‘‘ اور ’’ننگ و ناموس‘‘ کے تصورات کو بھی اسی فکری کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ آخر ننگ و ناموس ہے کیا؟ ایک بالغ انسان کے ذاتی فیصلے سے دوسرے انسان کی عزت کیسے کم ہو جاتی ہے؟ اگر ایک عورت اپنی مرضی سے اپنی قومی مقصد کے لے جنگی محاذ کا انتخاب کرتاہے تو اس سے اس کے بھائی، باپ، شوہر، سماج یا قبیلے کی عزت کیوں کم ہوتی ہے؟ اگر وہ کسی رشتے کو قبول نہیں کرتی تو اس کے انکار سے کسی مرد کی مردانگی کیوں مجروح ہوتی ہے؟ اگر وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرتی ہے تو اس فیصلے کو خاندان کی بے عزتی کیوں کہا جاتا ہے؟اگر کسی انسان کی عزت کسی دوسرے انسان کے جسم، محبت اور اختیار پر منحصر ہو جائے تو پھر یہ عزت اخلاقی تصور کم اور ملکیتی تصور زیادہ بن جاتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں غیرت کا تصور اپنی جدلیاتی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔ غیرت بظاہر اخلاقی لبادہ میں ملفوف ہوتاہے، مگر اس کے اندر ملکیت اور اجارہ داریت کا تصور چھپا ہوتا ہے۔ عورت کی ذات کو کسی خاندان، مرد یا قبیلے کی اجتماعی ملکیت سمجھا جائے تو اس کی محبت، لباس، نقل و حرکت، شادی، تعلقات اور سیاسی وقومی سرگرمی سب ’’عزت‘‘ کے معاملات بن جاتے ہیں۔لیکن جب اسی استعمار اس عورت کی عصمت دری کرتی ہے، تو وہاں کسی دلال، حاشیہ بردار کی غیرت کی دم گھٹتی ہے اس لے کہ اسے طاقتور پر غصہ نہیں آتا، اس کی غصہ کا اطلاق صرف کمزور پر ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے یہاں عورت کی زات ایک ایسا میدان بن جاتا ہے جہاں مردانہ اقتدار، غیرت اپنی موجودگی ثابت کرتا ہے۔ عورت کی خاموشی ’’حیا‘‘ بن جاتی ہے، عورت کی اطاعت ’’اچھائی‘‘ بن جاتی ہے اور عورت کا اختلاف ’’بدکرداری‘‘ یا ’’بغاوت‘‘ قرار پاتا ہے۔یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ اگر عورت کی خاموشی اخلاق ہے تو مرد کی خاموشی کیا ہے؟ اگر عورت کا اختلاف بغاوت ہے تو مرد کا اختلاف کیا ہے؟ اگر عورت کی محبت خاندان کی عزت کے لیے خطرہ ہے تو مرد کی محبت کس اخلاقی قانون کے تحت معصوم رہتی ہے؟ اگر عورت کی مرضی مشکوک ہے تو مرد کی مرضی کو فطری اختیار کیوں سمجھا جاتا ہے؟یہ دوہرا معیار کسی بھی اخلاقی نظام کو اندر سے متضاد بنا دیتا ہے۔

ہمیں اس فرسودگی سے نکلنے کے لیے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ مرد نہیں بلکہ وہ سماجی منطق ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان پر اختیار دیتی ہے۔ مسئلہ کسی ایک فرد کی ذات نہیں بلکہ فرسودہ ڈھانچہ ہے جو اختیار کو جنس، خاندان، قبیلے، مذہب یا ریاست کے نام پر تقسیم کرتا ہے۔اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ عورت مرد کے برابر کیسے آئے گی؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کو انسان کی حیثیت سے تسلیم کرنے میں اتنی مشکل کیوں ہے؟

بلوچ سماج کے بارے میں بھی یہی سوال پوری شدت کے ساتھ اٹھتا ہے۔ بلوچ عورت کے بارے میں ایک مخصوص تصور ہمارے سامنے رکھا گیا ہے: خاموش، پردہ نشین، محدود، خاندان کی عزت کی محافظ، مرد کے فیصلے کی پابند اور اجتماعی زندگی میں صرف اسی حد تک شریک جہاں مردانہ سماج اسے مناسب سمجھے۔ پھر اس تصور کو ’’بلوچ روایت‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے۔لیکن روایت کا نام لے دینا کسی دعوے کو تاریخی سچ نہیں بنا دیتا۔ ہمیں پوچھنا ہوگا: کون سی روایت؟ کس دور کی روایت؟ کس طبقے کی روایت؟ کس طاقت کی روایت؟ اور کس تاریخی ضرورت سے پیدا ہونے والی روایت؟

کوئی بھی زندہ سماج ایک ہی رنگ کا نہیں ہوتا۔ بلوچ سماج بھی تاریخ کے مختلف ادوار، مختلف طبقاتی حالات، مختلف سیاسی تجربات اور مختلف طاقت کے تعلقات سے تشکیل پاتا رہا ہے۔ اس میں مزاحمت بھی ہے اور جبر بھی، محبت بھی ہے اور پابندی بھی، مساوات کے عناصر بھی ہیں اور مردانہ بالادستی بھی۔اس لیے اس سماج کے اندر موجود انسانی آزادی، برابری اور مزاحمت کے عناصر کو پہچاننا بھی ضروری ہے اور ان قوتوں کو چیلنج کرنا بھی جو انسان کو اس کی ذات سے محروم کرتی ہیں۔

روایت کا مقصد انسان کو قید کرنا نہیں بلکہ انسانی تجربے کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے نئی نسلوں تک منتقل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر کوئی روایت انسان کو قید کرے تو اسے بدلنا روایت سے غداری نہیں بلکہ انسان کے ساتھ وفاداری ہے۔ اگر کوئی قدیم رسم انسانی اختیار کو ختم کرتی ہے تو اس کی قدامت اسے اخلاقی نہیں بناتی۔ پرانا ہونا سچ ہونے کی دلیل نہیں۔زندہ قومیں اپنی روایتوں کو میوزیم میں محفوظ نہیں کرتیں؛ وہ انہیں زندہ رکھتی ہیں، بدلتی ہیں، ان سے مکالمہ کرتی ہیں اور ان میں سے وہ عناصر منتخب کرتی ہیں جو انسانی زندگی کو وسیع کرتے ہیں۔

بلوچ عورت محبت کر سکتی ہے۔ یہ کوئی غیرتی معاملہ نہیں بلکہ ایک انسانی حقیقت ہے۔ محبت انسان کے بنیادی تجربات میں سے ہے۔ اگر بلوچ مرد محبت کر سکتا ہے تو بلوچ عورت کیوں نہیں؟ اگر مرد اپنی پسند کا شریکِ زندگی منتخب کر سکتا ہے تو عورت کیوں نہیں؟اگر مرد شعر لکھ سکتا ہے، موسیقی سن سکتا ہے، سفر کر سکتا ہے اور اپنی محبت کا اظہار کر سکتا ہے تو عورت کی محبت اچانک غیرت کا مسئلہ کیوں بن جاتی ہے؟ محبت کو جنس کے حساب سے جائز اور ناجائز تقسیم کرنا دراصل محبت کے بارے میں نہیں بلکہ اختیار کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔محبت میں عورت کی مرضی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی مرد کی مرضی۔ اس کا ’’ہاں‘‘ کہنا اس کا حق ہے اور اس کا ’’نہیں‘‘ کہنا بھی اس کا حق ہے۔

اسی طرح بلوچ عورت موسیقار بن سکتی ہے، شاعرہ ہو سکتی ہے، ساز بجا سکتی ہے، گیت گا سکتی ہے، لکھاری بن سکتی ہے، محقق بن سکتی ہے، فدائی ہوسکتی ہے، سرمچار بن سکتی ہے، سیاسی کارکن ہو سکتی ہے اور قومی جدوجہد کے مختلف محاذوں میں حصہ لے سکتی ہے۔ اگر بلوچ تاریخ، تہذیب، ثقافت، شاعری، موسیقی، لوک روایت اور اجتماعی اظہار سے بنتی ہے تو بلوچ عورت کو آزادی اور اجتماعی جدوجہد سے باہر رکھ کر بلوچ آزادی کو مکمل کیسے کہا جا سکتا ہے؟

بلوچ عورت پڑھ سکتی ہے،، سوال کر سکتی ہے، بحث کر سکتی ہے، تحقیق کر سکتی ہے، جنگ کرسکتی ہے، جنگ کا کوئی جنس نہیں، جنگ یا مزاحمت کے بارے میں اخلاقی اور سیاسی فیصلوں کو بھی صرف جنس کی بنیاد پر طے نہیں کیا جا سکتا۔ بہادری کسی ایک جنس کی ملکیت نہیں؛ یہ ایک انسانی امکان ہے۔اگر ایک مرد اپنی قوم یا کسی مقصد کے لیے خطرہ مول لے سکتا ہے تو عورت کو صرف جنس کی بنیاد پر اس امکان سے محروم کرنا منطقی طور پر ناقابلِ دفاع ہے۔ عورت بھی جان دے سکتی ہے، جان بچا سکتی ہے، سیاسی تنظیم بنا سکتی ہے، نظریہ پیش کر سکتی ہے، لکھ سکتی ہے اور تاریخ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اگر بلوچ قوم آزادی چاہتی ہے تو سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ آزادی صرف مرد کے لیے ہے؟ اگر ہم بیرونی قابض سے کہتے ہیں کہ ہماری زندگی، ہماری زمین اور ہمارے فیصلوں پر اختیار مت کرو تو یہی اصول اپنے سماج کے اندر بھی کیوں نہیں چل سکتا؟اگر بیرونی جبر جبر ہے تو اندرونی جبر کو روایت کہہ دینے سے اس کی ماہیت کیسے بدل جائے گی؟

قومی آزادی کا سب سے بڑا امتحان صرف سرحد پر نہیں بلکہ انسان کے تصور میں ہوتا ہے۔ ایک قوم اس وقت تک مکمل آزاد نہیں ہو سکتی جب تک اس کے اندر انسان کی قدر کسی بیرونی طاقت، قبیلے، خاندان، جنس یا مذہبی اختیار کے تابع رہتی ہے۔اگر بلوچ مرد ریاستی جبر کے خلاف آزادی کا مطالبہ کرتا ہے مگر اپنی بہن، بیٹی یا بیوی کی مرضی کو تسلیم نہیں کرتا تو یہاں ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔ وہ باہر کے قبضے کو مسترد کر رہا ہے مگر گھر کے اندر تسلط کی ایک چھوٹی شکل برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب، قبائلیت، استعمار اور ریاست سب کو ایک ہی اخلاقی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ عورت کی زندگی محدود کرنے والا حکم اگر مذہب کے نام پر آئے تو اس پر سوال ہونا چاہیے۔ اگر وہ قبائلی روایت کے نام پر آئے تو اسے بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔ اگر کسی قانون کے نام پر آئے تو اسے انسانی آزادی کے پیمانے پر پرکھنا چاہیے۔ اور اگر کسی نوآبادیاتی انتظام یا سیاسی مفاد نے سماجی پابندیوں کو مضبوط کیا ہو تو اس تاریخی تعلق کو بھی سمجھنا چاہیے۔

اسی طرح مذہب کو ایک یکساں اور جامد تاریخی قوت سمجھنا بھی درست نہیں۔ مذہبی روایتوں کی تعبیرات مختلف رہی ہیں اور مختلف معاشروں نے انہیں مختلف انداز میں استعمال کیا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی مخصوص سماجی تعبیر خود کو ابدی حقیقت بنا کر انسان کے بنیادی اختیار کو محدود کرنے لگتی ہے۔ وہاں سوال کرنا ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ سوال انسان کی دشمنی نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے۔

آج جب یہ کہا جاتا ہے کہ عورت کا جنگ یا مزاحمت کے میدان میں نکلنا ’’غیرت‘‘ کے خلاف ہے یا مذہبی تعلیمات کے منافی ہے تو ہمیں سوال اٹھانا چاہیے: کیا کسی سیاسی یا اخلاقی عمل کی اجازت یا ممانعت جنس کی بنیاد پر طے ہونی چاہیے؟ اگر جنگ غلط ہے تو مرد کے لیے بھی غلط ہونی چاہیے؛ اگر کسی مخصوص مقصد کے لیے مزاحمت کو جائز سمجھا جاتا ہے تو عورت کو صرف جنس کی بنیاد پر اس اخلاقی فیصلے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔یہی منطقی تسلسل ہے۔

ہمیں عورت کو ’’مرد جیسا‘‘ بنانے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی ایک غلط تصور ہوگا کہ برابری کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنی شناخت چھوڑ کر مرد کے سانچے میں داخل ہو۔ برابری کا مطلب یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی انسانیت کے ساتھ برابر قدر رکھتے ہوں۔ایک عورت عورت رہ کر بھی مکمل انسان ہے۔ اسے اپنی انسانیت ثابت کرنے کے لیے مرد جیسا بننے کی ضرورت نہیں۔

اسی طرح مسئلہ عورت کو کسی الگ طبقے کے طور پر دیکھنے کا بھی نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کا مالک ہے یا نہیں۔ اگر انسان اپنی ذات کا مالک ہے تو یہ اصول عورت پر بھی لاگو ہوگا اور مرد پر بھی۔ اگر انسان اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے تو عورت بھی کر سکتی ہے۔ اگر مرد کو اپنی محبت، تعلیم، سیاست، پیشے، لباس اور سفر کے فیصلے کا حق ہے تو عورت کو بھی یہی انسانی اختیار حاصل ہونا چاہیے۔
انسانی آزادی کسی جنس کا خصوصی حق نہیں؛ انسانی اختیار انسان ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔

اس مرحلے پر ہمیں یہ سوال بھی اٹھانا ہوگا کہ روایات انسان کو قید کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں یا اس کی تاریخی آزادی کو محفوظ رکھنے کے لیے۔ اگر روایت انسان کو قید کرے تو اسے بدلنا روایت سے غداری نہیں بلکہ انسان کے ساتھ وفاداری ہے۔ جو روایت ماضی کو نفرت سے نہیں بلکہ شعور سے دیکھے، غلط روایات کو تقدس سے نہیں بلکہ تنقید سے پرکھے اور مستقبل کو خوف سے نہیں بلکہ انسانی امکان سے تعمیر کرے، وہی زندہ روایت ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں بلوچ عورت کا تصور بھی بدلتا ہے۔ وہ محض کسی مرد کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی نہیں رہتی؛ وہ خود ایک انسان ہے، اپنی ذات، اپنی عقل، اپنی محبت، اپنے فیصلوں، اپنی سیاست، اپنی تخلیق اور اپنی تاریخ کے ساتھ۔وہ محبت کر سکتی ہے، انکار کر سکتی ہے، گیت گا سکتی ہے، ساز بجا سکتی ہے، کتاب لکھ سکتی ہے، کتاب پڑھ سکتی ہے، میدان میں کھیل سکتی ہے، سیاست کر سکتی ہے، قومی جدوجہد میں حصہ لے سکتی ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کر سکتی ہے۔ ان میں سے کسی ایک عمل سے بھی اس کی بلوچیت کم نہیں ہوتی۔

بلکہ شاید بلوچ سماج کی بلوغت اسی دن شروع ہوگی جب کسی بلوچ عورت کے انفرادی اختیار کو بلوچ قوم کی عزت کے خلاف نہیں بلکہ بلوچ انسان کی عزت کے طور پر دیکھا جائے گا۔کیونکہ آخرکار عورت کی عزت یہ نہیں کہ اسے کسی مقدس شیشے کے اندر بند کر دیا جائے۔ عزت یہ ہے کہ اسے انسان سمجھا جائے۔حیا کا مطلب خاموشی نہیں۔ غیرت کا مطلب ملکیت نہیں۔ ناموس کا مطلب انسان پر قبضہ نہیں۔ روایت کا مطلب جمود نہیں۔ مذہب کا مطلب ہر انسانی سوال پر خاموشی نہیں۔ قوم کا مطلب فرد کی غلامی نہیں۔اور آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک قوم کسی قابض کے تصرف سے نکل آئے۔ آزادی کا وسیع تر مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے وجود کے ساتھ زندہ رہ سکے، اپنی عقل سے سوچ سکے، اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکے اور اپنے فیصلے کی ذمہ داری بھی خود اٹھا سکے۔

اگر عورت کو قید رکھنے والی دیواریں روایت کے نام پر ہیں تو روایت کے سامنے سوال ہونا چاہیے۔ اگر وہ غیرت کے نام پر ہیں تو غیرت کی تعریف بدلنی ہوگی۔ اگر قبائلیت کے نام پر ہیں تو قبائلیت کو انسانی اور قومی آزادی کے پیمانے پر پرکھنا ہوگا۔ اگر مذہب کے نام پر ہیں تو مذہبی تعبیر کو علمی اور اخلاقی سوال کا سامنا کرنا ہوگا۔آزادی اگر واقعی آزادی ہے تو اس میں بلوچ عورت کوئی استثنا نہیں ہو سکتی۔وہ اسی آزادی کی مکمل انسان ہے۔

ختم شد

٭٭٭

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article