بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، تازہ ترین واقعات میں آواران کے اندر پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ قلعہ عبداللہ میں ایک مبینہ طور پر ریاستی سرپرست یافتہ مسلح گروہ (ڈیتھ اسکواڈ) کا کارندہ ہلاک کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پہلا واقعہ ضلع آواران کے علاقے تیرتیج میں پیش آیا جہاں ‘اہوری’ کے مقام پر سڑک کی تعمیر کرنے والی کمپنی کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے پاکستانی فوجی اہلکاروں کو نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر نشانہ بنایا۔
شدید فائرنگ کے اس حملے کے نتیجے میں کم از کم2 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔
حملے کے بعد حملہ آور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب، ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے جنگل پیر علی زئی میں پیش آنے والے ایک اور واقعے میں رمضان سرحدی نامی شخص کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق مقتول رمضان سرحدی مبینہ طور پر ایک پرو گورنمنٹ ملیشیا، جسے عام طور پر ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کہا جاتا ہے، کے ساتھ وابستہ تھا۔
بلوچستان میں فورسز پر بڑھتے ہوئے حملوں اور سرکاری سرپرست یافتہ عناصر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے سیکیورٹی خدشات اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔