بلوچستان کے اضلاع کیچ اور خضدار میں بلوچ آزادی پسند مسلح افراد کی جانب سے اہم کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں پاکستانی فورسز کے لیے راشن لے جانے والے 2 ٹرکوں کو نشانہ بنانے اور سی پیک روٹ پر ناکہ بندی کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک حاضر سروس اہلکار کو حراست میں لیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، پہلا واقعہ ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں سوراپ کے مقام پر پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کے لیے راشن اور سامان لے جانے والے دو ٹرکوں پر شدید فائرنگ کی۔
فائرنگ کے نتیجے میں دونوں گاڑیاں مکمل طور پر ناکارہ ہو گئیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلح افراد فائرنگ کے بعد دونوں ٹرکوں کے ڈرائیوروں کو اپنے ہمراہ نامعلوم سمت لے گئے ہیں۔
دوسری جانب، ضلع خضدار کے علاقے کرخ میں سی پیک روٹ پر بلوچ آزادی پسندوں نے گزشتہ روز کئی گھنٹوں تک ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کی، جس کے دوران سڑک پر آمدورفت کو کنٹرول میں رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق، ناکہ بندی کے دوران مسلح افراد نے پاک فوج (ایف سی) کے ایک حاضر سروس اہلکار کو شناخت کے بعد حراست میں لے لیا۔
حراست میں لیے گئے اہلکار کی شناخت نادر ولد امداد حسین (سکنہ کرخ، گل بھٹ) کے نام سے ہوئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ نادر حال ہی میں اٹک، پنجاب ٹریننگ سینٹر سے پاس آؤٹ ہوا تھا اور اس کا تعلق ایف سی کے بیچ نمبر 76 سے ہے۔
فی الوقت ان دونوں علیحدہ علیحدہ واقعات کی ذمہ داری کسی بھی بلوچ عسکری تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے، تاہم علاقے میں فورسز کی تحرک اور تشویش میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔