بلوچستان کے ساحلی شہر اور ضلع گوادر کے تحصیل پسنی سے مزید 2 لاشیں برآمد ہوئی ہیں ۔جبکہ قلات میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
کوسٹل ہائی وے کے قریب پسنی کوکونٹ فارم کے مقام سے 2 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جن کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔
اس سے قبل آج بروزپیر صبح پسنی کے علاقے چکلی سے 2 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن میں سے ایک کی شناخت حفیظ ولد داد محمد کے نام سے ہوئی جو گوادر یونیورسٹی کے طالب علم اور اگست 2025 سے لاپتہ تھے۔
اس طرح پسنی کے دو الگ الگ علاقوں سے ایک ہی روز میں مجموعی طور پر4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں بلوچستان بھر میں درجنوں کی تعداد میں لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں زیادہ تر کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی ہے جنہیں فورسز اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے جبری گمشدہ کرنے کے بعد ماور ئے عدالت قتل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب قلات میں محلہ گوم میں بجلی کے کھمبے پر کام کے دوران کرنٹ لگنے سے کیسکو اہلکار حاجی رحمت اللہ ہلاک ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حاجی رحمت اللہ محلہ گوم میں بجلی کے کھمبے پر کام کر رہے تھے کہ اس دوران انہیں بجلی کا کرنٹ لگ گیا، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
پولیس نے ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی۔