بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6393ویں روز بھی جاری رہا۔اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
دورانِ احتجاج بلوچ طالب علم سہیل بلوچ، فصیح بلوچ اور ریاض ساتکزئی کے لواحقین نے شرکت کرتے ہوئے اپنے پیاروں کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا اور اعلیٰ حکام سے ان کی بازیابی یقینی بنانے کی اپیل کی۔
واضح رہے کہ ریاض ساتکزئی کو رواں سال 6 مئی کو ڈیگاری کراس، ضلع مستونگ سے مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جبکہ سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کو 2 نومبر 2021 کو بلوچستان یونیورسٹی سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ سہیل بلوچ، فصیح بلوچ، ریاض ساتکزئی سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔