بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی جانب سے شہریوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے دوران مزید 4 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایک اور جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ضلع مستونگ کے علاقے سراوان ٹاؤن پادہ میں خفیہ اداروں (ISI/MI) اور فوج نے کارروائی کرتے ہوئے دو سگے بھائیوں سمیت تین افراد کو نشانہ بنایا۔
لاپتہ ہونے والوں میں 27 سالہ عزت اللہ بلوچ ولد عبدالرزاق (مکینک) کو 15 اکتوبر کی رات 1:00 بجے اور 25 سالہ آصف بلوچ ولد عبدالرزاق (مکینک) کو اسی رات 1:30 بجے ان کے گھر سے جبری لاپتہ کیا گیا۔
اسی طرح ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے آپسر میں ایف سی اور انٹیلی جنس اداروں نے گھر پر چھاپہ مار کر دو مزید طالب علموں کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
لاپتہ ہونے والوں میں 24 سالہ طیب ناصر ولد حاجی ناصر اور ان کے بھائی 28 سالہ پذیر ناصر ولد حاجی ناصر شامل ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق پذیر ناصر اس سے قبل بھی چار مرتبہ جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں۔
دوسری جانب، جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے ضلع کیچ کے علاقے سرنکن کے رہائشی مراد جان ولد قادر بخش بازیاب ہو کر بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
مراد جان کو 14 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا، جو اگلے ہی روز 15 اکتوبر کو رہا کر دیے گئے۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے طلبہ اور مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی مسلسل اٹھائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔