بلوچستان بھر میں پاکستانی فورسز کی جانب سے شہریوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی اور سیاسی دباؤ کے نتیجے میں پہلے سے لاپتہ 2 افراد اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فورسز نے مستونگ اور پسنی (گوادر) سے 2 مزید نوجوانوں کو جبراً لاپتہ کر دیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق، ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے وارڈ نمبر 7 کے رہائشی 19 سالہ طالب علم رحیم لال ولد لال بخش کو 27 جون 2026 کو رات 1:00 بجے ان کے گھر سے ملٹری انٹیلی جنس (MI)، آئی ایس آئی اور فوج نے چھاپہ مار کر جبری لاپتہ کیا۔
اسی طرح ایک اور واقعے میں، 12 اکتوبر 2026 کو رات 1:00 بجے فرنٹیئر کور (FC) نے ضلع مستونگ کے علاقے جنگل کراس سے 26 سالہ گیراج مکینک محمد آصف ولد لال محمد کو ان کے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
دوسری جانب، جبری گمشدگی کا شکار بننے والے 2 بلوچ نوجوان بحفاظت بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق، مستونگ کے رہائشی ممتاز بلوچ ولد سلطان محمدجنہیں 5 جون 2026 کو جبراً لاپتہ کیا گیا تھا16 اکتوبر 2026 کو کوئٹہ کے مقام پر لاپتہ رکھنے کے بعد رہا کر دیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں، تمپ کے علاقے نظرآباد کے رہائشی وسیم عبدالنبی بھی دس روز بعد بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
وسیم عبدالنبی کو 9 اکتوبر کی صبح ان کی دکان سے مسلح افراد ساتھ لے گئے تھے۔ ان کی بحفاظت واپسی پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والی تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ وسیم عبدالنبی اس سے قبل 2017 میں بھی جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے ریاستی فورسز کی جانب سے نوجوانوں اور طالب علموں کی مسلسل جبری گمشدگیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کی فوری اور باقاعدہ قانونی عدالتوں میں پیشی یا ان کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔