بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ضلع گوادر کے علاقے پانوان چِل، جیونی میں ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے بلوچ مزدوروں پر فائرنگ ریاستی دہشت گردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر کو ریاستی پشت پناہی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے فائرنگ کرکے تیل کے کاروبار سے وابستہ مزدوروں کو نشانہ بنانا انتہائی وہشت ناک عمل ہے۔ بلوچستان میں معاشی نسل کشی کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے- بلوچستان جہاں بلوچ عوام کے گزر بسر کا واحد ذریعہ سرحدی کاروبار سے وابستہ تھا، جسے بزورِ طاقت بند کر دیا گیا۔اور اب سمندری راستوں سے بھی کاروبار کو محدود کرنے کے لیے ڈیتھ اسکواڈ کو متحرک کرکے اس معاشی نسل کشی کو وسعت دی جارہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ریاستی پشت پناہی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کئی سالوں سے بلوچ عوام کو خوف و ہراس، تشدد اور عدم تحفظ کا شکار بنا رہے ہیں۔ گوادر سے لے کر کوہِ سلیمان تک مختلف علاقوں میں ایسے گروہوں کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی کو توسیع دی جارہی ہیں۔ ان گروہوں کو ریاستی سرپرستی میں تشکیل دے کر بلوچ عوام کو دبانے اور ان کی سیاسی و معاشی زندگی کو مفلوج کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق سرحدوں کے بندش کے بعد بلوچ عوام اپنے گزر بسر کے لیے سمندر کا رخ کر چکے ہیں ،وہاں بھی مزدوروں کو گولیوں کا نشانہ بنانا بلوچ عوام کے معاشی استحصال اور ریاستی جبر کو مزید شدت دینے کے مترادف ہے۔ بلوچ مزدوروں سے ان کے روزگار کے ذرائع چھیننا اور پھر انہیں گولیوں کا نشانہ بنانا بلوچ عوام کو نا صرف معاشی طور پر تباہ کرنے کی سازش ہے بلکہ اعلاناً بلوچ نسل کشی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، معاشی استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے اپنا عملی کردار ادا کریں، تاکہ بلوچ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔