بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی کارروائیوں کے خلاف ہینوور میں ریلی نکالی اور ریاست لوئر سیکسنی کی پارلیمان کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کا احتساب اور بلوچ قوم کے حقِ خودارادیت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اجتماع سے بی این ایم کے کارکنان آصف بلوچ اور عاقب بلوچ، جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے نمائندوں سعید مومند اور فضل مینہ خیل نے خطاب کیا۔ مقررین نے جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراست، تشدد اور شہری ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے بلوچ اور پشتون اقوام کے درمیان اتحاد اور عملی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
مقررین نے پنجگور میں اگست 2026 کے دوران پیر جان، شعیب بلوچ، حافظ مدثر، وزیر احمد اور جاسم کے قتل سے متعلق پانک کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے شہریوں کے تحفظ اور فوجی فضائی و ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا جائے۔
بی این ایم نے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ بلوچ قوم آزادی اور اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق رکھتی ہے، اور بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے استعمال کے بجائے انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف اور حقِ خودارادیت کو تسلیم کرکے حل کیا جانا چاہیے۔
ریلی کا آغاز شہر کے مرکزی علاقے کروپکے سے ہوا اور شرکا مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے پارلیمان کے سامنے پہنچے، جہاں انہوں نے نعرے لگائے اور معلوماتی پمفلٹ تقسیم کرکے مقامی شہریوں کو بلوچستان کی صورتِ حال سے آگاہ کیا۔