ٹرمپ کا روس پر نئی پابندیوں کا بڑا حصہ معطل کرنے کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے کے بڑے حصے کو معطل کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے روس کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر کھلے عام تنقید بھی کی ہے۔

روس پر پابندیوں کے مجوزہ منصوبے کے تحت امریکہ کو روس سے درآمد کی جانے والی تمام اشیا، بشمول خام تیل اور گیس، پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا جانا تھا۔ اس منصوبے کے اہم حامی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم تھے، جن کی حال ہی میں وفات ہوئی۔

مجوزہ قانون کے تحت امریکہ ان ممالک کے خلاف بھی کارروائی کر سکتا تھا جو قانون کے نفاذ کے 30 دن کے اندر روس سے جان بوجھ کر تیل یا گیس خریدتے یا پابندیوں سے بچنے میں روس کی مدد کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہوتے۔

روس پر پابندیوں کو معطل کرنے کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے اس اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے امریکہ نے روس سے ڈیزل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں روس اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ’لنڈسے گراہم ایکٹ‘ کے نام سے ایک بل پر دستخط کیے تھے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article