فرد سے تاریخ تک: غمخوار حیات کی معنوی بقاء | رامین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
25 Min Read

بعض لوگ تاریخ کے کیلنڈر پر جنم لیتے ہیں، بعض وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں، اور بعض ایسے ہوتے ہیں جنہیں مٹانے کی ہر کوشش، انہیں تاریخ کے اوراق پر مزید گہرا نقش بنا دیتی ہے۔ ان کی زندگی محض ایک فرد کی حیثیت پر مبنی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے سماج کے کرب، قومی اور انسانی المیات کی زندہ دستاویز ہوتی ہے۔ ان کے شب و روز مسخ شدہ لاشوں کی اندوہناک روداد، ماؤں کے اشکوں، بہنوں کی فریادوں، جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں میں شہادتوں، ٹارگٹ کلنگ، اجتماعی قتلِ عام اور اجتماعی سزاؤں کے کرب ناک مناظر سے عبارت ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تاریخ کو محض پڑھتے نہیں، بلکہ اپنے سماج کے زخموں کو جیتے، ان کی گواہی دیتے اور بالآخر خود تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جسے ان کی موت بھی اختتام تک نہیں پہنچا سکتی۔ وہ جسمانی طور پر رخصت ہوجاتے ہیں، مگر ان کی موجودگی قومی حافظے، شعور اور سماج کے لگے بندھے ہر ضابطے میں باقی رہتی ہے کہ انسان آخر زندہ کس لئے رہتا ہے؟

حیات بھی اسی مرحلہ واری ارتقاء کا ایک نام تھا۔اس کا اصل نام محمد خان تھا، مگر اس نے اپنے لیے جو نام منتخب کیا، وہ محض ایک ادبی تخلص نہیں تھا۔ اس نے اپنے وجود کے لیے دو ایسے لفظ چنے جن کے اندر انسانی زندگی کی ایک پوری فلسفیانہ معنویت آباد ہے: غمخوار اور حیات۔غمخوار، یعنی دوسروں کے غم کو محسوس کرنے والا؛ دوسروں کے درد کو محض محسوس کرنے کے بجائے، لمسی زاویہ سے دیکھنے کے بجائے انہیں اپنی کرب کی کسوٹی سے پرکھنا ۔ اور حیات، یعنی زندگی؛ وہ مسلسل حرکت جو موت کے دبیز تہہ میں بھی جہاں اپنی وجود کی حقیقی پرکھ کے آزمائش سے گزرنا پڑتاہے۔اس نام میں غم زندگی سے فرار کا وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کو اس کے تما م تر تلخیوں، تضادات، المیوں سمیت سمجھنے کا شعور ہے مستند یہی اس کی معنویت ہے کہ جو اپنے سماج کے دکھوں کو محسوس کرنا جانتاہے وہ زندگی کو گزارنے کے بجائے جینے کا ہنر بھی جانتا ہو وہی حیات رہتاہے۔

یہ محض دو الفاظ کا امتزاج نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اعلامیہ ہے۔ گویا اس نام کے اندر ایک انسان نے اپنی شناخت کا تعین کرتے ہوئے کہہ دیا ہو کہ میں اس زندگی کا نمائندہ بننا چاہتا ہوں جس میں میرے قوم کے میرے مقبوضہ سماج کے انسانوں کے دکھ میرے لیے اجنبی نہ ہوں۔ میں اپنے وجود کو صرف اپنی ذات کے گرد محدود نہیں کرنا چاہتا، بلکہ اسے ان لوگوں کے دکھوں سے وابستہ کرنا چاہتا ہوں جن کی آوازیں اکثر استعمار کے جاریت میں گم ہوجاتی ہیں۔اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں محمد خان، غمخوار حیات بن جاتا ہے۔

انسان کا اصل تعارف ہمیشہ اس کے پیدائشی نام سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ اپنے لیے ایسا نام منتخب کرتا ہے جو اس کی داخلی دنیا، فکری سمت اور اخلاقی وابستگی کا اظہار بن جاتا ہے۔ نام پھر محض شناخت کا وسیلہ نہیں رہتا، بلکہ ایک عہدوفا بن جاتا ہے؛ اپنے آپ سے کیا ہوا عہد، اپنے زمانے سے کیا ہوا عہد اور ان انسانوں سے کیا ہوا عہد جن کے دکھوں کو وہ اپنے وجود میں محسوس کرتا ہے۔غمخوار حیات کے نام میں یہی معنوی گہرائی پوشیدہ ہے۔غمخوار ہونا آسان نہیں۔ دوسروں کے دکھ پر افسوس کا اظہار کردینا ایک بات ہے، لیکن ان کے دکھ کو اپنے ضمیر کا مسئلہ بنالینا بالکل دوسری بات ہے۔ پہلی صورت میں انسان ایک تماشائی ہوتا ہے، دوسری صورت میں وہ اپنے عہد کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

دنیا میں دکھ ہمیشہ موجود رہے ہیں، لیکن ہر انسان دوسرے انسان کے دکھ کو محسوس نہیں کرتا۔ کچھ لوگ دوسروں کی تکلیف سے اپنی آسائشوں کا تحفظ کرتے ہیں، کچھ اسے قسمت کا لکھا قرار دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے کسی دوسرے کی چیخ، کسی ماں کا آنسو اور کسی بے بس انسان کی خاموشی محض خارجی واقعات نہیں رہتے، بلکہ ان کے اندر کوئی ایسی چیز توڑ دیتے ہیں جس کے بعد وہ پہلے جیسے نہیں رہ سکتے۔

نوشکی کے ایک ادبی سیمینار میں، جہاں سنگت غمخوار حیات بھی موجود تھے، میں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ادیب، شاعر اور دانشور کو آفاقی قرار دینے کی اصطلاح کس حد تک درست ہے؟ میرا استدلال تھا کہ آفاقیت اگر اپنے سماج کے دکھوں، اذیتوں اور انسانی المیوں سے بے خبری کا نام ہے، تو ایسی آفاقیت ادبی فضیلت نہیں، بلکہ فکری منافقت کی ایک صورت ہے۔

آفاقیت کا مطلب اپنی زمین سے لاتعلقی نہیں، بلکہ اپنی زمین کے تجربے کو انسانی تجربے کی وسعت عطا کرنا ہے۔ جو ادیب اپنے اردگرد بکھری ہوئی چیخوں سے بے نیاز ہو، اپنے سماج کی غلامی اور نوآبادی ہونے پر خاموش رہے، مگر دیگر اقوام کے اذیتوں پر اس کا ضمیر بیدار ہوجائے، اس کی ہمدردی کے اخلاقی جواز پر سوال اٹھانا ناگزیر ہے۔ دوسروں کے درد پر آنسو بہانا یقیناً انسانی وصف ہے، لیکن اپنے دروازے پر پڑے ہوئے زخموں سے آنکھیں چرانا اسی انسان دوستی اور قوم دوستی کو مشکوک بنا دیتا ہے۔

ادب محض لفظوں کی صناعی، استعاروں کی تزئین اور جذبات کی نمائش کا نام نہیں؛ یہ اپنے عہد کے شعور، سماجی تضادات اور انسانی کرب کی تخلیقی شہادت بھی ہے۔ ادیب کا قلم اگر دنیا کے مظلوموں کے لیے بلند ہو، مگر اپنے سماج کے محکومیت پر خاموش رہے، تو اس کی آفاقیت میں ایک بنیادی اخلاقی تضاد موجود ہے۔ ایسی صورت میں ادب زندگی کی ترجمانی کے بجائے محض ادبی شہرت اور اخلاقی برتر ی کا وسیلہ بننے لگتا ہے۔

میں نے اسی تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو ادیب اپنے سماج کی اذیتوں سے بے خبر اور دوسروں کے دکھوں پر جذباتی طور پر مضطرب ہو، وہ ادیب نہیں، طوائف ہے۔ یہ ایک سخت جملہ تھا، جس کا مقصد کسی پیشے کی تحقیر نہیں، بلکہ ضمیر، فن اور اظہار کو مفادات کے تابع کرنے والے رویے پر ضرب لگانا تھا؛ یعنی وہ طرزِ عمل جس میں احساس بھی نمائش بن جائے اور فن بھی منڈی کی شے۔حقیقی آفاقی ادیب وہ نہیں جو اپنی مٹی کی شناخت سے انکار کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنی گل زمین کے دکھ کو انسانی دکھ کی زبان عطا کرے۔

آفاقیت اپنی سماجی جڑوں سے انکار کرکے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اپنی جڑوں کی گہرائی سے جنم لیتی ہے۔ جو ادیب اپنے عہد کے زخموں کو پڑھنے، اپنے سماج کی چیخوں کو سننے اور اپنے لوگوں کے کرب کو لفظ دینے کی اخلاقی جرائت نہیں رکھتا، اسے اپنی آفاقیت کے دعوے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ کیونکہ ادب کی عظمت اس میں نہیں کہ ادیب پوری دنیا کے دکھوں کا ذکر کرے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ جس دکھ کو جانتا ہے، اسے پوری انسانی سچائی کے ساتھ بیان کرے۔ اگر انسان اپنے گردوپیش کو محض عادت کی آنکھ سے دیکھتا رہے تو وہ دکھ کو دیکھ کر بھی اس کی معنویت سے محروم رہ سکتا ہے۔ لیکن جب وہ بیدار قومی شعور کے ساتھ زندگی کو دیکھتا ہے تو سماج کا درد اس کے لیے ایک سوال بن جاتا ہے: یہ درد کیوں ہے؟ اس کی بنیاد کیا ہے؟ اور کیا انسان اس کے مقابلے میں کوئی اخلاقی ذمہ داری رکھتا ہے؟

البتہ یہاں ایک بنیادی فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔ باطنی آزادی کا فلسفہ انسان کو اپنے اندر کی غلامی سے آزاد کرنے کی کوشش کرتا ہے، جب کہ قومی زندگی میں آزادی کا سوال ان نوآبادیاتی حالات سے بھی وابستہ ہوتا ہے جو قوموں کے وجود پر قابض ہوتے ہیں۔ محض ذہنی سکون کسی مظلوم کی مادی محرومی کا متبادل نہیں ہوسکتا، اور محض سیاسی نعرہ کسی قوم کے اندر موجود بے حسی کا علاج نہیں بن سکتا۔انسانی آزادی کی مکمل معنویت شاید اسی وقت سامنے آتی ہے جب شعور اور عمل، باطن اور سماج، انفرادی بیداری اور اجتماعی ذمہ داری ایک دوسرے سے مکالمہ کریں۔

یہ انسانی تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے کہ بعض اوقات زندگی سے سب سے گہری وابستگی رکھنے والے انسانوں کو موت کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ جو لوگ زندگی کے احترام کی بات کرتے ہیں، ان کے حصے میں اکثر ایسی دنیا آتی ہے جہاں انسانی جان کی حرمت بار بار پامال ہوتی ہے۔غمخوار حیات کو شہید کردیا گیا، مگر اس کی شہادت نے اس کے نام میں پوشیدہ تضاد کو مزید گہرا کردیا: جس شخص کے نام میں زندگی تھی، اسے زندگی سے محروم کردیا گیا؛ جس کی شناخت دوسروں کے غم سے وابستہ تھی، اس کے اپنے غم نے ایک سوال کی صورت اختیار کرلی۔
یہاں سوال صرف ایک شخص کی موت کا نہیں رہتا۔ سوال یہ بن جاتا ہے کہ آخر وہ کون سے حالات ہیں جن میں انسانی زندگی اتنی غیر محفوظ ہوجاتی ہے کہ ایک انسان کا وجود اچانک ایک خالی جگہ، ایک تعزیتی خبر اور ایک روتے ہوئے گھر میں تبدیل ہوجاتا ہے؟

موت ایک حیاتیاتی حقیقت ہے۔ ہر جاندار کو ایک دن اپنے جسمانی وجود سے رخصت ہونا ہے۔ لیکن انسانی موت کی معنویت صرف اس حقیقت سے متعین نہیں ہوتی کہ سانس کب بند ہوئی۔ اس کا تعلق اس زندگی سے بھی ہے جو انسان نے گزاری، ان رشتوں سے بھی ہے جو اس کے ساتھ وابستہ تھے، ان خوابوں سے بھی ہے جو اس نے دیکھے، اور ان سوالوں سے بھی جو اس کے جانے کے بعد زندہ رہ جاتے ہیں۔

اسی لیے ہر موت یکساں نہیں ہوتی۔ بعض اموات اپنے پیچھے صرف یاد چھوڑتی ہیں، جب کہ بعض اپنے عہد کے ضمیر پر ایک ایسا سوال لکھ جاتی ہیں جسے مٹانے کے لیے محض وقت کافی نہیں ہوتا۔شہادت کے تصور کی اخلاقی معنویت بھی اسی مقام پر سامنے آتی ہے۔ شہید کا جسمانی وجود ختم ہوسکتا ہے، لیکن اس کی موت جس ظلم، تنازع،اور المیے کی طرف توجہ دلاتی ہے، وہ اس کے ساتھ لازماً ختم نہیں ہوجاتا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہم موت کے لیے کتنے شاندار الفاظ تلاش کرسکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم زندگی کو اس مقام تک پہنچانے کے لیے کیا کرتے ہیں جہاں انسانوں کو بار بار اپنے پیاروں کی قبروں پر کھڑا ہوکر ان کی عدم موجودگی سے مکالمہ نہ کرنا پڑے۔بلوچ وطن کے منظرنامے میں غم محض ایک ذاتی جذبہ نہیں رہتا۔ وہ کبھی ایک ماں کی آنکھ میں ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی گھر کے خالی دروازے پر، کبھی کسی باپ کے شکستہ لہجے میں، اور کبھی اس خاموشی میں جو کسی رشتہ دار کی جدائی کے بعد پورے خاندان پر اتر آتی ہے۔جب کسی سماج میں موت، خوف، سزا اور جدائی کے واقعات مسلسل لوگوں کے تجربے کا حصہ بننے لگیں تو غم انفرادی حدود سے نکل کر قومی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔روز لاشیں گرتی ہیں۔روز مائیں روتی ہیں۔روز کسی گھر میں انتظار کی ایک نئی تاریخ لکھی جاتی ہے۔اور روز زندگی، اپنے ہی وطن میں، اپنے تحفظ اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔ ایک لاش صرف ایک جسم نہیں ہوتی؛ وہ کسی کی اولاد ہوتی ہے، کسی کی امید، کسی کی دوستی، کسی کا مستقبل اور کسی خاندان کی روزمرہ زندگی کا ایک بنیادی حصہ ہوتی ہے۔ جب ایک انسان مارا جاتا ہے تو اس کے ساتھ کئی ایسے امکانات بھی ختم ہوجاتے ہیں جو شاید ابھی حقیقت بننے والے تھے۔

ایک ماں صرف اپنا بیٹا نہیں کھوتی؛ وہ اس کے مستقبل کے ساتھ وابستہ اپنے خوابوں کا ایک پورا سلسلہ کھو دیتی ہے۔ ایک بہن صرف اپنے بھائی سے محروم نہیں ہوتی؛ وہ اس رشتے کی روزمرہ موجودگی سے محروم ہوجاتی ہے جس میں زندگی کے معمولی واقعات بھی معنویت رکھتے تھے۔ ایک بیوہ صرف ایک شخص کو نہیں کھوتا؛ وہ اپنے ماضی کے ایک حصے، اپنے مشترکہ تجربات اور ان گفتگوؤں سے محروم ہوجاتا ہے جو شاید کبھی مکمل نہ ہوسکیں۔اگر زندگی کی تعریف صرف سانس لینے، حرکت کرنے اور جسمانی طور پر موجود رہنے تک محدود ہو تو موت ایک قطعی اختتام ہے۔ لیکن اگر انسانی وجود میں شعور، تعلق، زبان، یادداشت اور دوسروں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی شامل کیا جائے تو صورتِ حال زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔انسان اپنے بعد بھی کئی معنوں میں موجود رہ سکتا ہے۔وہ اپنی تعلیمات میں موجود رہتا ہے۔
وہ اپنے کیے ہوئے عمل کے نتائج میں موجود رہتا ہے۔وہ ان سنگتوں کی یاداشت میں موجود رہتا ہے جن کی زندگی سے اس کی زندگی وابستہ رہی۔اور وہ ان سوالوں میں بھی باقی رہ سکتا ہے جنہیں اس کے جانے کے بعد نظرانداز کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوجائے۔

اس لیے غمخوار حیات کو زندہ رکھنے کا مطلب صرف اس کا نام دہراتے رہنا نہیں ہوسکتا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کی حقیقی زندگی، اس کی فکری وابستگیوں، اس کے قومی وطنی رشتوں اور اس کے اعمال کو دیانت داری کے ساتھ یاد رکھا جائے۔ اس کی شخصیت کو افسانوی تقدیس میں گم کرنے کے بجائے اس کے فکری اور وژنری وجود کو سمجھا جائے۔بقولِ ایک مارکسی دانشور انقلاب کو اپنے فکری سفر کا پہلا زینہ بنائے بغیر، استحصالی قوتوں کو اپنے راستے سے پرے دھکیلتے ہوئے آگے نہیں بڑھ سکتا؛ کیونکہ بلوچ نیشنلزم کے تناظر میں انقلاب اقتدار کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ ان فوجی،سماجی، معاشی اور فکری رشتوں کی شکست کا عمل ہے جو انسان کو انسان کا محکوم بناتے ہیں۔

نیشنلزم کی روح اسی شعور میں مضمر ہے کہ فکر اگر اپنے عہد کے قابض ڈھانچوں کو چیلنج نہیں کرتی تو وہ محض ذہنی آسودگی کا وسیلہ بن کر رہ جاتی ہے۔ حقیقی دانشور کا منصب وقت کے جبر سے مفاہمت کرنا نہیں، بلکہ اس کے خلاف شعور کی مزاحمت کو زندہ رکھنا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تاریخ کے پہیے کو آگے بڑھانے کے لیے صرف خواب دیکھنا کافی نہیں؛ خوابوں کو مادی حقیقت میں بدلنے کے لیے فرسودہ نظاموں، استحصالی حربوں اور فکری جمود سے تصادم ناگزیر ہے۔

غمخوار حیات کی زندگی کی تقدیس اسی فکری استقامت میں ہے کہ اس نے جدوجہد کو محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ قومی وقار، سماجی انصاف اور قومی آزادی کے سوال سے مربوط کیا۔ اس کی میراث کسی شخصیت کی عقیدت میں محصور ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ اس شعور کو آگے بڑھانے کا عہد ہے جو ہر عہد میں استحصال کو پہچانتا، ہر جبر سے سوال کرتا اور اپنے قوم کی آزادی کو اپنی فکری جدوجہد کا مرکز بناتا ہے۔ انسان کی اصل عظمت اس میں نہیں کہ وہ تاریخ کے ساتھ چلتا رہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ تاریخ کو اپنے کے حق میں بدلنے کی جدوجہد کرے۔ یہی غمخوار حیات کی فکری میراث اور اس کی زندگی کی حقیقی تقدیس ہے۔

اگر بلوچ سماج میں ہر نئی موت ایک نئے ماتم کو جنم دیتی ہے تو اس سماج کو صرف یادگاروں کی نہیں، زندگی کو محفوظ بنانے والے سماجی،سیاسی اور مزاحمتی راستوں اور شاہراہوں سے مربوط رہنا چاہیے۔زندہ رہنے کا مطلب کیا ہے؟ اس زاویے سے دیکھا جائے تو محض زندہ ہونا اور زندگی کو شعوری طور پر جینا ایک ہی بات نہیں۔ایک شخص برسوں زندہ رہ سکتا ہے، لیکن اس نے کبھی اپنے وجود، اپنے خوف، اپنی خواہشات اور اپنے سماجی کردار کے بارے میں سنجیدگی سے سوال نہ کیا ہو۔ اس کے برعکس کوئی شخص اپنی مختصر زندگی میں ایسے تاریخی لڑائی لڑتاہے جو اپنی شریر کھونے کے باوجود زندہ رہتاہے یہاں زندگی کی معنویت کا تعلق اس کی طوالت سے زیادہ اس کے شعوری اور اخلاقی معیار سے بھی قائم ہوتا ہے۔

زندگی صرف مرنے کے بعد یاد کیے جانے کا نام نہیں۔ زندگی ان صبحوں کا نام بھی ہے جن میں انسان ایک آزاد فضاء میں آکسیجن لیتاہے، ان گفتگوؤں کا نام بھی ہے جو دوستوں کے درمیان ہوتی ہیں، ان آرزوؤں کا نام بھی ہے جنہیں ابھی حقیقت بننا ہوتا ہے، اور ان غیرمعمولی خوشیوں کا نام بھی ہے جنہیں ہم اکثر اس وقت سمجھتے ہیں جب وہ ہم سے چھن چکی ہوتی ہیں۔اگر غمخوار حیات زندہ ہے تو اس معنوی معنی میں کہ اس کا نام ہمیں زندگی کی حرمت یاد دلاتا ہے، تو اس یاد کا تقاضا یہی ہے کہ ہم زندہ انسانوں کے لیے بہتر حالات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔زندہ رہنا صرف موت کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا نام نہیں؛ یہ اس سماج کو بدلنے کی کوشش بھی ہے جس میں انسان خوف کے بجائے اعتماد، غلامی کے بجائے آزادی اور بے بسی کے بجائے ایک آزاد باوقار زندگی حاصل کرسکے۔

شاید اسی لیے اس نام کو صرف ایک فرد کی شناخت سمجھ کر چھوڑ دینا کافی نہیں۔ اسے اس سوال کے ساتھ یاد رکھنا چاہیے جو ہر انسانی المیے کے بعد ہمارے سامنے آتا ہے: کیا ہم ایسی سماج تعمیر کرسکتے ہیں جس میں انسان کا دکھ کسی دوسرے انسان کے لیے محض خبر نہ رہے؟

اگر ہم ایسا کرسکیں تو غمخوار ہونے کا مفہوم محض ایک تخلص نہیں رہے گا، بلکہ ایک اخلاقی قدر بن جائے گا۔اور اگر حیات کو صرف سانس لینے کے بجائے بلوچ قوم کی باوقار، محفوظ اور بامعنی زندگی سمجھا جائے تو پھر غمخوار حیات کا نام ہمیں موت کے سامنے سر جھکانے کے ساتھ ساتھ زندگی کے حق میں کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی دے سکتا ہے۔

ریاستی جبر جب کسی سماج کو اپنے حصار میں لیتا ہے تو اس کی تقسیم محض جغرافیائی یا سیاسی نہیں رہتی، بلکہ وہ اسے چوکو حاشیوں میں تقسیم کرتا ہے،شعور، خوف، مفاد اور مزاحمت کی صورتوں میں انسانی وجود کے اندر بھی سرایت کر جاتی ہے۔ سماج ایسے مختلف دائروں میں بٹ جاتا ہے جہاں کچھ لوگ آزادی کے امکانات کو حقیقت بنانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، کچھ اپنی ناپختگی، خوف، مراعات اور آسودہ زندگی کی محبت میں غلامی کو قبولیت کا نام دے دیتے ہیں، اور کچھ اس کشمکش کے درمیان اپنی فکری سمت متعین کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

غلامی ہمیشہ زنجیروں کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی؛ کبھی وہ مراعات کی نرم چادر اوڑھ کر انسان کے ضمیر کو مفلوج کرتی ہے، کبھی خوف کو دانش مندی اور مصلحت کو حقیقت پسندی کا نام دیتی ہے۔ یوں انسان اپنی آسودگی کی حفاظت کرتے کرتے اپنی آزادی کی معنویت ہی سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ لیکن تاریخ کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگ خوف کے سامنے جھک گئے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے لوگ خوف کے باوجود اپنے انسانی وقار اور آزادی کے تصور سے وابستہ رہے۔

کسی بھی قومی یا سماجی جدوجہد کی سمت کا تعین محض تعداد سے نہیں، بلکہ اس شعور، استقامت، دلیری اور سرمچاری ارادے سے ہوتا ہے جو جبر کے مقابلے میں اپنے آزادی کو زندہ رکھتا ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں شریک انسانوں کی اہمیت اسی لیے غیر معمولی ہے کہ وہ اپنی ذات کے محدود مفادات سے آگے بڑھ کر ایک قومی مستقبل کے سوال سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیاں سماج کے سامنے یہ اخلاقی سوال رکھتی ہیں کہ کیا آسودگی کی خاطر آزادی سے دست بردار ہو جانا زندگی کی کامیابی ہے، یا نامساعد حالات میں انسانی وقار کی حفاظت کرنا؟

ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے سماج میں ایسے جہدکار موجود ہیں جو اپنی جان، آسودگی اور ذاتی مستقبل کو داؤ پر لگا کر آزادی کے سوال کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی جدوجہد کی معنویت صرف ان کی قربانی میں نہیں، بلکہ اس تاریخی شعور میں ہے جو وہ اپنے سماج کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔کیونکہ آزادی محض ایک منزل کا نام نہیں؛ یہ شعور کی بیداری، خوف سے فکری نجات اور انسان کو اپنی تاریخ کا خود مختار کردار بنانے کا عمل ہے۔ قوموں کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ آسودہ غلامی اور دشوار آزادی کے درمیان کس تصورِ زندگی کا انتخاب کرتی ہیں۔ تاریخ بالآخر انہی سوالات سے تشکیل پاتی ہے جنہیں ایک عہد کے باشعور انسان اپنے عمل، فکر اور قربانی سے زندہ رکھتے ہیں۔

***

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article