پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخو ا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سہیل آفریدی کے آبائی علاقے ضلع خیبر، باڑہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے آج دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے کیے۔
پہلے دن جماعت کا کوئی رہنما احتجاج میں موجود نہیں تھا، تاہم منگل کو صوبائی اسمبلی کے رکن عبدالغنی آفریدی موٹر سائیکل پر سوار باڑہ بائی پاس پہنچے، جہاں پہلے سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
انھوں نے اپنے خطاب میں کارکنوں کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پر امن احتجاج جاری رکھنے اور مرکزی حکومت کے اقدام کو مسترد کرنے کی ہدایات دیں۔
خطاب کے بعد کارکنوں نے باڑہ بازار کا رخ کیا، جہاں عالم گودر روڈ پر پہلے سے پولیس کے بھاری نفری تعینات تھی۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں اور آنسوگیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم گذشتہ روز کے مقابلے میں آج پی ٹی آئی کے کارکنوں کی تعداد زیادہ تھی۔
مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور خیبر چوک سے پولیس کو پیچھے ہٹانے میں کامیاب رہے۔
احتجاج کے شرکا نے ٹائر اور پولیس سے زبردستی لی گئی چیزیں جلائیں۔
تاہم پولیس کے جانب سے کارکنان کو منتشر کرنے کی کارروائی جاری رہی۔
مظاہرین کے جانب سے قریب واقع نادار اور ریسکیو دفاتر پر پتھراؤ کیا گیا۔
اس کے بعد مظاہرین کی بڑی تعداد پاک افغان شاہراہ کی طرف روانہ ہوئی، جہاں پولیس کے جانب سے آنسو گیس فائر کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔