پاکستانی فوج کے ہاتھوں مزید  4 نوجوان جبری لاپتہ، 2 قتل، ایک بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں انسانی حقوق کی زبوں حالی اور ریاستی جبر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریاستی فورسز کی جانب سے 4 مزید بلوچ نوجوانوں کو جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ دو نوجوانوں کو ماورائے آئین و عدالت قتل اور ایک لاپتہ نوجوان مہینوں کی قید و تشدد کے بعد بازیاب ہو کر گھر پہنچ گیا ہے۔

بی وائی سی کی رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز (ایف سی اور ایم آئی) نے مختلف علاقوں سے چار نوجوانوں کو اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

ولید بلوچ (عمر 25 سال)، مراد بخش کے بیٹے اور پیشے سے طالب علم ،ولید بلوچ کو 9 اکتوبر 2026 کو آدھی رات 12:00 بجے ان کے گھر گبد کلدان (گوادر) سے ایم آئی اور ایف سی نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

نثار ملنگ (عمر 25 سال)،محمد ابراہیم کے بیٹے اور پیشے سے ڈرائیور، نثار ملنگ کو 8 اکتوبر 2026 کو صبح 9:00 بجے کلی سردار تاج محمد سنجرانی (چاغی) سے ایف سی نے جبری لاپتہ کیا۔

محمد آصف (عمر 25 سال) خلیق داد کے بیٹے اور پیشے سے زمیندار ،محمد آصف کو 8 اکتوبر 2026 کو رات 12:00 بجے کلی پیر محمد (چاغی) سے ایف سی کے اہلکاروں نے ان کے گھر سے اٹھایا۔

حافظ زبیر احمد (عمر 23 سال) حافظ علی احمد کے بیٹے اور پیشے سے دکاندار، حافظ زبیر کو 3 اکتوبر 2026 کو صبح 4:00 بجے کلی ہارون (چاغی) سے ایف سی نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

جبکہ دوسری جانب بلخ شیر (عمر 28 سال) لوٹی ڈیرہ بگٹی کے رہائشی اور پیشے سے ڈرائیور،بلخ شیر ولد صدیق کو 11 اکتوبر 2026 کو وندر کے مقام پر کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے شدید زخمی اور بعد ازاں شہید کر دیا۔ بی وائی سی نے اس واقعے کو شہریوں کے حقوقِ زندگی پر حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح محمد اقبال (عمر 28 سال)، بارکھان کے علاقے ہن ندی کے رہائشی اور پیشے سے مزدور محمد اقبال ولد نواب خان کو 26 دسمبر 2025 کو سیشن کورٹ رکھنی کے سامنے سے ایم آئی کے اہلکاروں نے جبری لاپتہ کیا تھا۔ 9 ماہ اور 14 دن تک ریاستی تحویل میں رکھنے کے بعد 10 اکتوبر 2026 کو انہیں بارکھان میں ایک جعلی مقابلے میں قتل کر کے ان کی لاش پھینک دی گئی۔

دریں اثنا کراچی کے علاقے لیاری (سارگوات کلری) کے رہائشی شاہ زیب ولد صمد، جنہیں 1 جون 2026 کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا، 7 اکتوبر 2026 کو اوتھل (لسبیلہ) کے مقام سے بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ بازیاب ہونے والے نوجوان نے ریاستی عقوبت خانوں میں شدید غیر انسانی تشدد برداشت کیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کے ان واقعات کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف اقدامات کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article