بلوچستان کے مختلف علاقوں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی سے مجموعی طور پر 8 افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن کے بارے میں شدید قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ انہیں پاکستانی فورسز نے جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کیا ہے یا دورانِ حراست نشانہ بنایا گیا ہے،کیونکہ یہ تمام افراد میبنہ طور پر پہلے سے جبری لاپتہ تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق کوہلو اور بارکھان کے سرحدی علاقے بالا ڈھاکہ سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایس ایچ او گرسنی کے مطابق لاشیں شناخت اور مزید قانونی کارروائی کے لیے بارکھان پولیس کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں6 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ۔
مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فوج نے 6 افراد کو ماورائے قانون قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں جھکرا موڑ کے مقام پر پھینک دیں۔
ہلاک ہونے والے تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں محمد خان ولد یارو ( مریٹہ بگٹی)، لالو ولد تاج محمد ( شمبانی بگٹی)، شاہ میر ولد شہال (رانازئی بگٹی)، وحید ولد ہلو خان ( چاکرانی بگٹی)، غلام دین ولد کوری ( نوثانی بگٹی)، کرم خان ولد مزار خان ( مسوری بگٹی) شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی فورسز نے ان جبری لاپتہ افراد کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انہیں گولیاں کا نشانہ بنایا، جس سے ریاستی بربریت واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے حملوں میں اپنے فوجی جوانوں کی ہلاکت کے بعد فوری ردعمل کے طور پر پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو قتل کرکے ان کی لاشیں پھینکنے کے ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔
اس تازہ ترین لہر نے خطے میں خوف و ہراس اور لواحقین میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔