تربت میں فائرنگ سے قتل کئےجانے والے آرٹسٹ شاہینہ شاہین کے قتل کا مقدمہ اس کے شوہر کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔
تربت پولیس نے مقتولہ کے ماموں کی مدعیت میں محراب گچکی جو مقتولہ کا مبینہ شوہر بتایا جارہا ہے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ۔
مقدمے میں امجد رحیم ولد رحیم بخش نے کہا ہے کہ محراب گچکی جو کہ مقتولہ شاہینہ شاہین کے شوہر ہیں نے PTCLکالونیکے اپنی رہائش گا ہ میں اپنے 9 نائن ایم ایم پستول سے فائرنگ کرکے اپنی بیوی مسمات شاہینہ بنت محمد رفیق کو قتل کردیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق ہفتے کی دوپہر محراب گچکی نامی شخص تربت کے سرگرم سماجی کارکن، آرٹسٹ اور اینکر دزگھار میگزین کے ایڈیٹر شاہینہ شاہین کوشدید زخمی حالت میں ٹیچنگ ہسپتال تربت لائے جن کو دو گولیاں لگی ہوئی تھیں جہاں پہ وہ جانبحق ہوگئی۔

کیچ پولیس کے ایس ایس پی نجیب پندرانی کے مطابق شاہینہ کو محراب گچکی نامی ایک شخص نے زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچایا تھا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسیں۔
انھوں نے بتایا کہ جس شخص نے شاہینہ شاہین کو ہسپتال پہنچایا وہ یہ کہہ کر ہسپتال سے چلے گئے کہ وہ ان کے گھر کی خواتین کو ہسپتال لائیں گے۔
پولیس کا کہنا ہے وہ شخص ہسپتال واپس نہیں آیا بلکہ روپوش ہو گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار ہسپتال پہنچے اور جس گاڑی میں شاہینہ کو ہسپتال پہنچایا گیا تھا اس کو تحویل میں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں پولیس ٹی این ٹی کالونی میں ایک کوارٹر پر پہنچی جہاں شاہینہ کو ہسپتال لانے والے شخص کے بارے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ وہاں آتا جاتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ یہ کوارٹر اکبر گچکی نامی ایک شخص کے نام پر ہے لیکن جب پولیس کی ٹیم وہاں پہنچی تو کوارٹر میں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کوارٹر کے اندر خون بھی پڑا تھا اور وہاں سے گولیوں کے خول بھی ملے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاتون کو اسی کوارٹر میں مارا گیا۔‘
شاہینہ شاہین کا تعلق ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت شہر سے تھا۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم تربت میں حاصل کی اور اس کے بعد فائن آرٹس میں ڈگری حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی آف بلوچستان میں داخلہ لیا۔
انھوں نے فائن آرٹس میں 2018 میں نہ صرف بی ایس کی ڈگری حاصل کی بلکہ اپنی ذہانت کے باعث گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔
انھوں نے سنہ 2019 میں بلوچی زبان میں بھی ایم اے کی ڈگری فرسٹ پوزیشن کے ساتھ حاصل کی۔
وہ صحافت کے پیشے سے بھی وابستہ تھی اور ایک بلوچی میگزین دزگہار(سہیلی ) کی مدیر بھی تھیں۔
کوئٹہ میں یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ پی ٹی وی بولان کے بلوچی زبان میں مارننگ شو کی میزبانی بھی کرتی تھی۔
شاہینہ بلوچ کا کوئی بھائی نہیں تھا بلکہ وہ پانچ بہنیں تھیں۔
سنہ 2018 میں یونیورسٹی آف بلوچستان میں جب فائن آرٹس کے فائنل ایئر کے طلبا و طالبات کی پینٹنگز کی نمائش کی گئی تو اس میں شاہینہ کی پینٹنگز نہ صرف شامل تھیں بلکہ ہر لحاظ سے نمایاں بھی تھیں۔
یونیورسٹی میں اس نمائشں کے دوران انھوں نے اپنی والدہ اور چاربہنوں کی بھی پینٹنگز بنائی تھی۔
انھوں نے پینٹنگز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا کوئی بھائی نہیں لیکن یہ خواتین ان کی طاقت ہیں اور وہ انہی کی مدد سے اس مقام تک پہنچی ہیں۔

2018 میں یونیورسٹی آف بلوچستان میں جب فائن آرٹس کے فائنل ایئر کے طلبا و طالبات کی پینٹنگز کی نمائش کی گئی تو اس میں شاہینہ کی پینٹنگز نہ صرف شامل تھیں بلکہ ہر لحاظ سے نمایاں بھی تھیں۔
یونیورسٹی آف بلوچستان میں پینٹنگز کی نمائش کے دوران انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بلوچستان کی خواتین صلاحیتوں میں کسی سے بھی کم نہیں۔
’بلوچستان کی خواتین بہادر ہیں اور وہ سب کچھ کرسکتی ہیں لیکن انہیں خاندان کی جانب سے مدد کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ اگر لوگ اپنی خواتین کی سپورٹ کریں گے تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک رول ماڈل بنیں گی۔
انھوں نے اپنی اور اپنی بہنوں کی جو پینٹنگز کی تھی اس پر انہوں نے خاردار تاریں بھی بنائی تھیں۔ اس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مقصد یہ ہے کہ خواتین کے لیے مشکلات بہت ہوتی ہیں وہ جب گھروں سے نکلیں گی تو رکاوٹیں ہوں گی لیکن خواتین کو ہمت نہیں ہارنی ہے بلکہ جرات کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔‘
وہ تربت جیسے دوردراز علاقے سے پہلی لڑکی تھیں جنہوں نے ٹی وی میں کام کیا۔
شاہینہ نے بتایا تھا کہ شروع شروع میں سب کو مشکلات ہوتی ہیں اسی طرح کی مشکلات انہیں بھی پیش آئیں لیکن انھوں نے اپنے معاشرے کی ترقی کے لیے کام کرنا تھا اس لیے انھوں نے اپنے خاندان کی سپورٹ سے ان مشکلات کا مقابلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوششوں کی وجہ سے لوگ ان کے کام کو پسند کررہے ہیں ان کی ہر لحاظ سے حوصلہ افزائی کررہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کر دکھایا ہے۔
اس نمائش میں ان کی پینٹنگز کو لوگوں نے سراہا تو وہ بہت خوش تھی اور اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ لوگ ان کے کام کو بہت زیادہ پسند کریں گے۔
انہوں نے یہ کہا تھا وہ بہت زیادہ خوش ہیں اور انہیں یہ ہمت نہیں ہو پارہی ہے کہ وہ اپنی اس خوشی کے بارے میں اپنے گھر والوں کو کس طرح بتائیں۔
وہ ملکی اور انٹرنیشنل سطح پر بھی اپنے کام کی نمائش کرنا چاہتی تھیں اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ بتانا چاہتی ہیں کہ بلوچستان کے خواتین میں کتنی صلاحیت ہے۔
انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ خواتین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کریں گی کیونکہ ایک خاتون ہی خواتین کے مسائل کو بہتر انداز سے سمجھ سکتی ہیں۔
مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ محراب گچکی اور شاہینہ نے کچھ عرصہ قبل مبینہ نکاح کیا تھا جس کا علم دونوں کی فیملی کو نہیں تھا۔
تاہم تاحال شاہینہ شاہین کے قتل کی وجوہات ابھی تک معلوم نہ ہوسکیں۔
خیال رہے کہ شاہینہ شاہین مکران آرٹس اکیڈمی کے نام سے اپنی ادارہ بھی چلا رہی تھیں۔