مغربی بلوچستان کے علا قے زاہدان میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جان سے گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی زمینی افواج کے جنوب مشرقی قدس ہیڈکوارٹر کے مطابق زاہدان کے قریب دھماکا سڑک پر اس وقت ہوا جب سیکیورٹی قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔
یہ حملہ اس علاقے میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بعد ہوئی جس میں سیکیورٹی فورسز نے متعدد مسلح افراد کومارنے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم بیان میں کسی تنظیم کا نام نہیں بتایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حملے کے ذمہ دار عناصر کی شناخت، تعاقب اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ترکی کی خبر رساں ایجنسی نے بھی ایرانی حکام کے حوالے سے ایک اہلکار کی ہلاکت اور سڑک کنارے بم دھماکے کی تصدیق کی تھی۔
دوسری جانب ایران انٹرنیشنل نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ زاہدان کے قریب ایک حملے میں پاسداران انقلاب قدس فورس سے وابستہ فاطمیون ملیشیا کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے۔
خیال رہے کہ مغربی بلوچستان کے علاقے میں حالیہ دنوں کے دوران مسلح جھڑپوں اور سکیورٹی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی حکام نے جمعرات کو بھی ایک کارروائی میں 6 مسلح افراد مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس سلسلے میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے مُلک کے اہم صوبے سیستان بلوچستان میں حالیہ حملوں میں ملوث ایک ’دہشت گرد گروہ‘ کا سراغ لگا کر اسے ختم کر دیا ہے۔‘
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے القدس فورس کے تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’اس کارروائی کے نتیجے میں گروہ کے دو ارکان مارے گئے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ ’تکفیری گروہ‘ اس سے قبل بلوچ سنی رکن عبدالرؤف اسحاقی کو قتل کرنے کے علاوہ راسک شہر میں ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ کر چکا ہے۔
جمعرات کو ایرانی خبر رساں اداروں نے بتایا تھا کہ ’سیستان بلوچستان کے شہر راسک میں ایک چیک پوسٹ پر مسلح حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔‘