باجوہ اثاثہ جات کیس: بزنس کے نگراں ادارے کے جوائنٹ ڈائریکٹراسلام آباد سے لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی اور کاروباری اداروں کے نگراں ادارے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ملنے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ساجد گوندل کے اہلخانہ کے مطابق وہ جمعرات کی شام سے لاپتہ ہیں جبکہ پولیس کو ان کی سرکاری گاڑی جمعے کی صبح اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاو¿ن میں واقع زرعی تحقیقاتی مرکز کے باہر سے ملی ہے۔

ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاو¿ن حاکم نیازی نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ جمعے کی صبح ساڑھے گیارہ بجے ایمرجنسی سروس 15 کی کال کے بعد ہم نے موقع پر پہنچ کر گاڑی قبضے میں لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گاڑی این اے آر سی کے دفتر کے باہر سڑک کنارے کھڑی تھی اور گاڑی کھلی ہوئی تھی جبکہ چابی اس میں ہی موجود تھی۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’ساجد گوندل کا لاپتہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ بطور حکومت ا±ن کی جلد بازیابی ہماری ذمہ داری ہے۔ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ہر شہری کی زندگی کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔۔۔‘

ساجد گوندل کے اہل خانہ کے مطابق انھوں نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دے دی ہے اور وہ گمشدگی کی درخواست دینے کے لیے پولیس سے رابطے میں ہیں۔

پولیس کو ساجد کی سرکاری گاڑی جمعے کی صبح اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاو¿ن میں واقع زرعی تحقیقاتی مرکز باہر سے ملی ہے۔

ساجد گوندل کی اہلیہ نے بی بی سی کے اعظم خان کو بتایا کہ ان کے شوہر دو تین دن سے دباو¿ اور پریشانی کا شکار تھے تاہم انھوں نے پوچھنے کے باوجود تفصیلات نہیں بتائیں کہ آخر انھیں پریشانی تھی کیا۔

ان کے مطابق جمعرات کی شام ساجد گوندل اپنے فارم ہاو¿س پر گئے تھے اور انھیں شام ساڑھے سات بجے کے بعد اپنے شوہر کی گمشدگی کا علم ہوا۔

ساجد گوندل کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ گمشدگی سے ایک دن قبل کچھ لوگ شام کو ان کے گھر پر ساجد گوندل کا پتہ کرنے آئے تھے جس پر ان کے بیٹے نے انھیں فارم ہاو¿س کا پتا بتا دیا تھا۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین عامر خان کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی اس واقعے کے بارے میں اطلاع ملی ہے اور فی الحال وہ اس پر کوئی ردعمل نہیں دے سکتے۔

ساجد گوندل کی گمشدگی کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بارے میں بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا اورجہاں اسے جبری گمشدگی کے واقعات سے جوڑا جاتا رہا وہیں کئی لوگ اس واقعے کا تعلق صحافی احمد نورانی کی اس خبر سے جوڑتے دکھائی دیے جس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈعاصم باجوہ نے اپنے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ اس خبر میں فراہم کی جانے والی بہت سی معلومات ایس ای سی پی سے حاصل ہونے والی دستاویزات کی بنیاد پر ہی فراہم کی گئی ہیں۔

بی بی سی نے اس سلسلے میں جب احمد نورانی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ساجد گوندل ان کی اس خبر کا ذریعہ نہیں تھے جو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کے استعفے کی وجہ بنی ہے۔

یہ خبر شائع کرنے والی ویب سائٹ فیکٹ فوکس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ الزام کہ اسلام آباد میں ’جبری گمشدگی‘ کا شکار بننے والے ساجد گوندل اس خبر کا ذریعہ تھے یا انھوں نے فیکٹ فوکس کو کوئی دستاویزات فراہم کی تھیں بالکل غلط ہے اور ان سے تو پہلی مرتبہ رابطہ بھی خبر کی اشاعت کے چار دن بعد ہوا تھا۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ انھیں ایس ای سی پی کے سربراہ عامر خان نے اس وقت ساجد گوندل سے رابطہ کرنے کے لیے کہا تھا جب ان سے ادارے میں ریکارڈ میں تبدیلی کے معاملے پر بات کی گئی تھی۔

ڈان اخبار سے منسلک صحافی ریم خورشید نے ساجد گوندل کی گمشدگی پر وزیر اعظم عمران خان کے گذشتہ روز الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ حکومت جمہوری ہے اور میڈیا آزاد۔ لیکن وہ پاکستان جو ان کے تخیل سے باہر ہے وہاں میڈیا ایک جانب اس خبر کی تردید شائع کرتا ہے جسے چلا نہیں سکتا اور پھر ایس ای سی پی کا اعلی افسر لاپتہ ہو جاتا ہے۔

استاد اور سماجی کارکن عمار علی جان نے اس حوالے سے ٹویٹ میں کہا کہ ’سیاست ہو یا صحافت ہو یا معیشت، ہر چیز کو اب قومی سلامتی کا معاملہ بنا دیا جاتا ہے۔ اب یہ مزید نہیں چل سکتا۔‘

صحافی اور ٹی وی اینکر ندیم ملک نے ساجد گوندل کی گمشدگی پر ٹویٹ میں کہا کہ ’وزیر اعظم کو فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ ان کی واپسی ممکن ہو سکے۔ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔‘

اسی طرح صحافی انعام اللہ خٹک نے بھی ایس ای سی پی کہ اہلکار کی گمشدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ’خدارا انھیں واپس لائیں، طاہر داوڑ جیسا واقعہ دوبارہ نہ دہرائیں۔‘

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ کس قسم کی لاقانونیت ہے جس سے ساری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔

’قریب ہر ہفتے کوئی نہ کوئی اٹھا لیا جاتا ہے۔ 21 جولائی کو مطیع۔ آج ساجد گوندل۔ اور دونوں وفاقی دارالحکومت سے۔‘

Share This Article
Leave a Comment