بلوچ آزادی پسند رہنما اختر ندیم بلوچ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورہ پاکستان کے موقع پر میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل ایک ایسے ریاست کا دورہ کررہے ہیں جو دنیا کی بقا کے لیے ایک ناسور بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان محکوم قوموں کے لئے ایک اذیت گاہ ہے۔ یہاں بلوچ سمیت دیگر اقوام ستر سالوں سے اپنی قومی بقاء و تشخص سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ محکوم قوموں کی آزادی کے لئے آواز اٹھانے ہزاروں لوگ قتل اور ہزاروں کی تعداد غیر اعلانیہ نازی طرز کے فوجی ٹارچر سیلوں میں اذیت سہہ رہے ہیں۔ اس سے بلوچستان میں ایک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔
اختر ندیم بلوچ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے منصب کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے پاکستان دورے میں بلوچ قومی مسئلے سے بے خبر نہ رہیں۔ پاکستانی فوج اور اختیار اداروں نے بلوچ سرزمین کو بلوچ عوام کیلے جہنم بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف بلوچستان بلکہ خطہ سمیت پوری دنیا میں جاری دہشت گردی کا منبع ہے۔افغانستان میں چالیس سالہ جنگ پاکستان کے توسیع پسندانہ عزائم کا براہ راست نتیجہ ہے۔ افغان عوام کی بدحالی اور تباہی پاکستان کے شیطانی عزائم کا نتیجہ ہے۔ افغان مہاجرین کی میزبانی احسان نہیں بلکہ پاکستان ان مہاجرین کے نام پر ملنے والے امداد کو اپنے مکروہ عزائم کے لئے استعمال کرتا آیا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو لاکھوں افغان پاکستان کے شیطانی منصوبوں کی وجہ سے مہاجر بن کر تذلیل آمیز زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کی تخلیق تاریخ کے ساتھ بدترین ظلم ہے۔ اس کے نتائج آج بلوچ سمیت پشتون، سندھی بھگت رہے ہیں۔پاکستان ایک غیر فطری ریاست اور کارپوریٹ فوج کا ملکیت ہے جو قوموں کے خون پر پل رہا ہے۔
اخترندیم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان کی بلوچ نسل کشی سمیت یہاں بسنے والے سندھی، پشتون، اْردو اسپیکنگ کی نسل کشی اور ان پر ڈھائے جانے والے جبر و ظلم پر پاکستان کی ریاست اور فوج کو انصاف کے کٹہرئے میں لایا جائے۔
واضع رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس افغان مہاجرین کے پاکستان میں 40 برس مکمل ہونے سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے 16فروری سے 19 فروری تک پاکستان کا 4 روزہ دورہ کریں گے۔