اورماڑہ سے حراست کے بعد لاپتہ ماہی گیر کی کراچی سے گرفتاری ظاہر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

کراچی کے ماڑی پور سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر امجد ولد گہرام کی بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ سے جبری گمشدگی کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے کراچی میں ان کی گرفتاری کے دعوے نے معاملے کو متنازع بنا دیا ہے۔

کراچی کے علاقے ماری پور سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر امجد ولد گہرام کو 15 جنوری 2026 کی صبح اورماڑہ کے مقام سے ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے حراست میں لیا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

امجد کی عمر تقریباً 30 سال بتائی جاتی ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے ماہی گیر ہیں۔

اہلخانہ کے مطابق حراست میں لیے جانے کے بعد سے امجد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ آج ان کی جعلی گرفتاری کراچی سے ظاہر کی گئی اور ان کا تعلق ایک مسلح تنظیم سے جوڑا گیا ہے۔

اہلخانہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کا نوٹس لیا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کیا جائے۔

دوسری جانب سندھ کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے اتوار کے روز ایک انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے دوران کراچی سے ایک شخص کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے دعوے کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت امجد عرف گہرام کے نام سے ہوئی۔ وہ سی ٹی ڈی کی ریڈ بک میں شامل انتہائی مطلوب ملزمان میں شامل تھا۔ کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی۔ ملزم کے قبضے سے 30 بور پستول اور گولیاں برآمد کی گئیں۔

ابتدائی تفتیش میں حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر انکشاف کیا ہے کہ اس نے 2022 میں ایک ہمسایہ ملک میں عسکری تربیت حاصل کی۔ اسے جدید ہتھیاروں کے استعمال اور دیسی ساختہ بم (IEDs) نصب کرنے کی تربیت دی گئی۔ اس کے اہم واقعات سے مبینہ روابط سامنے آئے ہیں۔ اس پر ماڑی پور میں حساس تنصیبات اور گاڑیوں کی ریکی کا الزام ہے۔ اس پر جعفر ایکسپریس ٹرین حملے کے لیے معلومات اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کا شبہ ہے۔ وہ مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث رہا ہے۔

سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم کا تعلق مبینہ طور پر بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ اہم شخصیت ظفر بلوچ عرف ماما سے بتایا جاتا ہے، جو جعفر ایکسپریس حملے کے دوران مارا گیا تھا۔

حکام کے مطابق امجد عرف گہرام، ظفر بلوچ کا قریبی ساتھی اور بھانجا بتایا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس سے ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر مبینہ نیٹ ورکس کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Share This Article