نوشکی: منشیات فروشوں کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کیخلاف طلباء کا احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع نوشکی ڈگری کالج کے طلباء نے گذشتہ دنوں منشیات فروشوں کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کے خلاف کالج کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔

مظاہرین نے جانبحق ہونے والے نوجوان سمیع اللہ مینگل کو خراج تحسین پیش کیا اور انصاف کی فراہمی کے لئے شدید نعرہ بازی کی۔

اس موقعے پر مظاہرہ کا کہنا تھا کہ نوشکی میں سماج دشمن عناصر مضبوط ہوچکے ہیں جبکہ شعوری سرگرمیوں میں حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے۔ سمیع اللہ مینگل ایک قابل محنتی اور ذہین طالب علم تھے انہوں نے سماج دشمن سرگرمیوں کے خلاف آواز بلند کرکے اپنے جان کا نظرانہ پیش کیا جوکہ نوشکی کے تمام طلباء کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ہم سمیع بلوچ کے مشن کو پرامن انداز میں آگے بڑھاہینگے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک باشعور نوجوان کا دن دھاڑے قتل کے بعد اب تک سرکاری مشینری حرکت میں نہیں آسکی جوکہ افسوسناک عمل ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سمیع کے فیملی کو انصاف فراہم کیا جائے۔

خیال رہے سمیع اللہ مینگل کو دو روز قبل نوشکی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیااور اس کا ساتھی زخمی ہوا۔

سماجی و سیاسی حلقوں کے مطابق سمیع اللہ مینگل نے منشیات فروشوں کیخلاف ضلعی حکام کو شکایت کی تھی جس کے باعث انہیں نشانہ بنایا گیا۔

نوجوان کے قتل کے بعد مشتعل افراد نے نوشکی شہر کے ساتھ واقع قاضی آباد میں منشیات کے اڈے کو مسمار کیا جبکہ فورسز کیمپ کے سامنے لاش کے ہمراہ گھنٹوں تک احتجاج کیا بعد ازاں حکام کی یقین دہانی پر مظاہرہ ختم کیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment