وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام جبری لاپتہ آصف بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لیے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس مظاہرے میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء، طلبہ، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
مظاہرے میں شریک شرکاء نے مطالبہ کیا کہ آصف بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جن افراد پر کسی بھی نوعیت کے الزامات ہیں، انہیں آئین و قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ شرکاء نے جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچوں کے ماورائے عدالت قتل کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔
جبری لاپتہ آصف بلوچ کی ہمشیرہ نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی آصف بلوچ کو رواں سال 13 جولائی کو ایمان سٹی، کوئٹہ سے مبینہ طور پر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب تک نہ تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں اہلِ خانہ کو کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی کرب اور اذیت کا شکار ہے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ آصف بلوچ کی باحفاظت بازیابی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان پر کسی نوعیت کا کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق منظرِ عام پر لاتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں اور اہلِ خانہ کی بے یقینی کا خاتمہ ہو۔