بلوچستان کے علاقے نوشکی میں پاکستانی فوج کے قافلے پر ایک بڑے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس سے بڑے پیمانے جانی نقصانات کی اطلاعات ہیں جبکہ پنجگور سے لاپتہ سالہ نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمدہوئی ہے۔
بلوچستان کے اضلاع نوشکی اور پنجگور سے دو الگ الگ افسوسناک واقعات کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نوشکی کے علاقے احمد وال میں پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر بڑا حملہ ہوا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ تاہم، حکام کی جانب سے ابھی تک حملے کی نوعیت یا نقصان کی حد کے بارے میں کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
دوسری جانب ضلع پنجگور کے علاقے گرمکان روڈ سے 14 سالہ شہزاد ولد نذیر کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لاش کو ضروری کارروائی کے لیے سول ہسپتال پنجگور منتقل کر دیا گیا۔
اہلخانہ کے مطابق شہزاد کو 31 مئی 2025 کی شب ضلع پنجگور کے علاقے پروم سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے وہ جبری طور پر لاپتہ تھے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کی گرفتاری سے متعلق کسی سرکاری ادارے نے معلومات فراہم کیں۔
ذرائع کے مطابق 31 مئی کی رات تقریباً 12 بجے پروم کے علاقوں رحیم آباد اور نعیم آباد میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا، جہاں پاکستانی فوج نے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے متعدد گھروں پر چھاپے مارے۔
اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے ساتھ مقامی مسلح افراد بھی شریک تھے، جنہیں مقامی حلقے “ڈیتھ اسکواڈ” کے نام سے جانتے ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق رحیم آباد میں چھاپے کے دوران شہزاد کو ان کے گھر سے حراست میں لے جایا گیا، جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ کئی ماہ تک ان کی بازیابی کے لیے اہلخانہ مختلف حکام سے رجوع کرتے رہے، تاہم انہیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اب ایک سال بعد گرمکان روڈ سے شہزاد کی گولیوں سے چھلنی لاش ہوئی ہے۔