بلوچستان کے مختلف اضلاع سے پاکستانی فو ج کے ہاتھوں مزید 4 افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کرنے اور ایک نوجوان کے پرسرار طور پر لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 21 جولائی 2026 کی صبح کوئٹہ کے علاقے کلی الماس، ایئرپورٹ روڈ پر پاکستانی فوج نے گھروں پر چھاپوں کے دوران حافظ عبدالنافع بلوچ ولد محمد ابراہیم بلوچ اور بیبرگ بلوچ ولد عین الدین بلوچ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
ذرائع کے مطابق دونوں کو آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے، تاہم ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
دریں اثناء خاران کے رہائشی میران بلوچ ولد گل خان کو 23 جولائی 2026 کی شام کوئٹہ کے بشیر چوک سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
خاندان کے مطابق میران بلوچ کو تیسری مرتبہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب گلشن آباد، تربت کے رہائشی 18 سالہ نوجوان حمل ولد عادل رشید گزشتہ روز جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلے، تاہم اس کے بعد سے لاپتہ ہیں اور اہلِ خانہ کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
اہلِ خانہ کے مطابق حمل جمعہ کی نماز کے لیے گئے تھے، لیکن تاحال واپس نہیں آئے، جس کے باعث گھر والے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کی ہر ممکن جگہ تلاش کی جا رہی ہے، تاہم اب تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
لواحقین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو حمل کے بارے میں کوئی معلومات ہوں یا وہ کہیں نظر آئیں تو فوری طور پر اہلِ خانہ کو آگاہ کریں۔