بلوچستان کے کئی علاقوں میں پاکستانی فوج کی جارحیت جاری ہے، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کوئٹہ اور منگچر سے فوج نے دوران جارحیت طلبہ رہنما جیئند بلوچ سمیت 2 درجن افرادکو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے مرکزی چیئرمین، جیئند بلوچ، کو ان کے گھر، ہدہ، سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جیئند بلوچ ایک طلبہ سیاسی تنظیم کے رہنما ہیں، جو جمہوری سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق، اس سے قبل بھی انہیں دو مرتبہ مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔
بی ایس او نے مطالبہ کیا ہے کہ جیئند بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
جیئند بلوچ کی اہلیہ کے مطابق، رات تقریباً 11 بجے سی ٹی ڈی کے اہلکار ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے اسلحے کے زور پر ہمیں ہراساں کیا، بچوں کے ساتھ مارپیٹ کی، اور میرے شوہر، جیئند بلوچ، کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے شوہر کے خلاف کوئی قانونی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، اور اگر وہ سرکاری تحویل میں ہیں تو ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر ان کی خیریت اور مقام کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔
دوسری جانب ضلع قلات کے تحصیل منگچر سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فوج نے شہر کے مختلف مقامات پر کاروائی کرتے ہوئے چھاپے مارے اور شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق اس دوران فوج نے 20 سے زائد شہریوں کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، جس کے بعد سے وہ منظرعام پر نہیں آسکے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز مستونگ سے فوج نے خاتون کو تین بچوں سمیت پانچ افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے جبکہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے آپریشن کے نام سے جارحیت آغاز کردیا گیا ہے۔
اسی طرح مستونگ و قلات کے مختلف علاقوں میں بھی فوجی جارحیت کی اطلاعات ہیں جبکہ خضدار میں فوج کی جانب سے آبادی پر شیلنگ کے باعث ایک شہری ہلاک ہو گیا ہے۔جس کی میت کے ساتھ علاقہ مکین روڈ بند کرکے دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔