بلوچستان میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں آپریشن کے نام سے جاری حالیہ فوجی جارحیت میں بلوچ قوم کے خلاف ریاستی بربریت اور غیرقانونی پالیسی کے تحت جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے پاکستانی فوج نے 2 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ سے دو افراد کو سیکیورٹی اداروں (CTD/ISI) نے حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے، جن کی شناخت باپ اور بیٹے کے طور پر ہوئی ہے:
اویس شاہ بلوچ ولد قاہِم شاہ، عمر 20 سال، پیشے کے لحاظ سے طالب علم اور مستقل رہائشی روبدار، قلات ہیں۔ انہیں 14 جولائی 2026 کو شام 5:00 بجے قمبرانی روڈ، کوئٹہ میں ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
قائم شاہ بلوچ ولد مہران شاہ، عمر 42 سال، پیشے کے لحاظ سے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ اور مستقل رہائشی روبدار، قلات ہیں۔ انہیں بھی اسی روز یعنی 14 جولائی 2026 کو علی الصبح 3:00 بجے قمبرانی روڈ، کوئٹہ میں واقع گھر سے اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا۔