فوج اور ڈیتھ اسکواڈز نے احمد علی بلوچ اور باڈا بگٹی کو ماورائے عدالت قتل کردیا، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج اور ریاستی زیرِسرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈز نے ایک 18 سالہ نوجوان اور ایک 27 سالہ محنت کش مزدور کو ماورا ئے عدالت قتل کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلا واقعہ ڈیرہ بگٹی میں پیش آیا جہاں یارو پٹ، سوئی کے رہائشی اور علی خان بگٹی کے 18 سالہ بیٹے احمد علی بلوچ 19 جولائی 2026 کی صبح ایک لینڈ مائن دھماکے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ لینڈ مائن ریاست کے زیرِ اثر کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈز (State-operated death squads) کی طرف سے بچھائی گئی تھی۔ ان کی موت بلوچستان میں تشدد کی بڑھتی ہوئی انسانی قیمت میں ایک اور اضافہ ہے، جہاں بلوچ عوام دہائیوں پر محیط تنازعے اور عدم تحفظ کے نتائج بھگت رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ دوسرا واقعہ مستونگ کے علاقے کَد کوچہ میں پیش آیا جہاں 16 جولائی 2026 کو پیر کوہ، ڈیرہ بگٹی کے رہائشی اور ہیر دین نوسانی بگٹی کے بیٹے، 27 سالہ مزدور باڈا بگٹی کو پاکستانی فوج نے قتل کر دیا۔ باڈا بگٹی محنت کش ایک انسان تھے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے سخت محنت مزدوری کر کے روزی کماتے تھے۔ بے شمار دیگر بلوچ شہریوں کی طرح، وہ کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھے، پھر بھی بغیر کسی الزام اور قانونی کارروائی (due process) کے ان کی زندگی چھین لی گئی۔

ان دونوں واقعات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ احمد علی بلوچ کا قتل بلوچستان میں سیکیورٹی اور انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو نمایاں کرتا ہے جبکہ باڈا بگٹی کا قتل اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ بلوچستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، نہ طلبہ، نہ سیاسی کارکن، اور نہ ہی گھر سے دور روزی روٹی کی تلاش میں سفر کرنے والے مزدور۔ ڈیرہ بگٹی کے ایک رہائشی کا سینکڑوں کلومیٹر دور مستونگ میں قتل ہونا، پورے بلوچستان میں فوجی کارروائیوں کی وسیع اور بے لگام رسائی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں بلوچوں کی زندگیوں کو مکمل استثنیٰ (impunity) کے ساتھ ختم کر دیا جاتا ہے اور ان کی اموات بغیر کسی تحقیقات کے گزر جاتی ہیں۔ احمد علی کی موت کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے؛ یہ آج کے بلوچستان کی وسیع تر حقیقت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، اور ریاست کے زیرِ پشت مسلح گروہوں کی کارروائیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ سویلین علاقوں میں بچھائی گئی لینڈ مائنز، خاص طور پر ڈیرہ بگٹی اور دیگر تنازعے سے متاثرہ علاقوں میں، عام لوگوں بشمول بچوں اور مال مویشی پالنے والوں کی جانیں لے رہی ہیں، جس سے ان کی اپنی زمین ہی خطرے کا باعث بن گئی ہے۔ دوسری طرف، پرامن سیاسی کارکن، طلبہ اور انسانی حقوق کے محافظ محض سچائی اور احتساب کا مطالبہ کرنے پر ہراسانی، من مانی حراست، اور پرتشدد کریک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماورائے عدالت قتل پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، بشمول شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی میثاق (ICCPR) کے تحت ضمانت یافتہ زندگی کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جہاں مجرموں کو احتساب سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ غمزدہ خاندانوں کو جوابات حاصل کرنے کے بنیادی وقار سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ باڈا بگٹی اور انصاف کے بغیر قتل کیے جانے والے ہر بلوچ کا خون ایک ایسے نظام کا ثبوت ہے جس نے اپنے ہی قوانین کو ترک کر دیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبات کیے ہیں کہ احمد علی بلوچ اور دیگر کئی افراد کے قتل کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے۔ ریاست کے زیرِ سرپرستی چلنے والے ڈیتھ اسکواڈز کا فوری خاتمہ کیا جائے، سویلین علاقوں سے لینڈ مائنز کو صاف کیا جائے اور بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل کی پالیسی کا فوری خاتمہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوامِ متحدہ کا ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی (UN Working Group on Enforced Disappearances)، ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا دفتر (OHCHR) اور عالمی برادری بلوچستان پر اپنی خاموشی توڑیں، زمین پر بگڑتی ہوئی صورتحال اور بلوچ شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کا فوری نوٹس لیں، اس کی نگرانی کریں اور ان جاری مظالم کے ذمہ داروں کا احتساب کریں۔ بلوچ نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک مزید جاری نہیں رکھا جا سکتا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article