بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور عقوبت خانوں سے رہائی کا سلسلہ بیک وقت جاری ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین دستاویزی تفصیلات کے مطابق، ایک طرف حب چوکی کے مختلف علاقوں سے مزید دو بلوچ نوجوانوں کو پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا ہے، تو دوسری طرف طویل عرصے سے غائب دو نوجوان فوج کے عقوبت خانوں سے رہا ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
حب چوکی سے سیکیورٹی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے پہلے نوجوان کی شناخت صدام حسین کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر 21 سال ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے دکاندار ہیں۔ آواران کے رہائشی صدام حسین ولد نبی بخش کو 17 جولائی 2026 کو رات ایک بجے میر آباد، حب چوکی کے مقام سے ایف سی، سی ٹی ڈی اور ایم آئی نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔
حب چوکی ہی سے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے دوسرے نوجوان 15 سالہ کم عمر طالب علم معاذ جان ولد سبز علی ہیں، جن کا تعلق بھی آواران سے ہے۔ معاذ جان کو 14 جولائی 2026 کی رات 10 بجے زہری گوٹھ داروغہ ہوٹل، حب چوکی کے پاس سے ملٹری انٹیلی جنس (MI) نے اٹھا کر لاپتہ کیا۔
دوسری جانب فوج کے عقوبت خانوں سے دو لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کی بھی تصدیق ہوئی ہے جو اپنے گھروں کو محفوظ پہنچ چکے ہیں۔
رہا ہونے والے پہلے نوجوان عزیز بلوچ ولد محمد سلطان ہیں، جو کوئٹہ میں سڑیاب روڈ پر واقع عوامی پمپ، حسین آباد کے رہائشی ہیں۔
عزیز بلوچ کو 25 مئی 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جو ایک سال سے زائد عرصہ غائب رہنے کے بعد بالآخر 18 جون 2026 کو کوئٹہ ہی سے رہا ہو کر اپنے گھر پہنچے۔
عقوبت خانے سے رہا ہونے والے دوسرے نوجوان محمد صدیق ولد باہوت ہیں، جن کا تعلق باہوت چاٹ، بالنگور، ضلع کیچ سے ہے۔
محمد صدیق کو 11 جنوری 2026 کو حراست میں لیا گیا تھا، جو لگ بھگ چھ ماہ تک لاپتہ رہنے کے بعد 15 جولائی 2026 کو کیچ میں واقع ایف سی کیمپ میرانی ڈیم کی حراست سے رہا ہوئے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اور انسانی حقوق کے مقامی حلقوں نے جہاں ان دو نوجوانوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے، وہاں حب چوکی سے ایک کم عمر طالب علم معاذ جان اور دکاندار صدام حسین کی حالیہ گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام لاپتہ بلوچوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ دہرایا ہے۔