مستونگ، قلات، کوئٹہ اور گومازی میں بی ایل ایف کی پاکستانی فوج پر حملوں میں 12 اہلکار ہلاک ، میجر زیر حراست

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں مستونگ، قلات، کوئٹہ اور گومازی میں پاکستانی فوج پر حملوں میں 12 اہلکاروں کی ہلاکت سمیت فوج کے ایک میجر کی گرفتاری کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 15 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مدینہ ہوٹل کے قریب ناکہ بندی کی، ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے آمد و رفت کرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی اور اس دوران پاکستانی فوج کے ایک میجر کے ڈرائیور کو بلٹ پروف گاڑی سمیت گرفتار کر لیا، جو اس وقت تنظیم کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے 8 گڈز ٹرالرز کو روک کر تفتیش بھی کی، تاہم بعد میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں بحفاظت رہا کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 14 جولائی 2026 کو قلات کے علاقے رودین جو کے ہسپتال پر قائم قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر تعینات ایک فوجی اہلکار کو اسنائپر حملے کا نشانہ بنایا، جو موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ 13 جولائی 2026 کو ہمارے سرمچاروں نے گومازی کے علاقے ماروار میں سویلین کپڑوں میں ملبوس، فوجی آپریشن کی غرض سے داخل ہونے والے قابض فوج کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے انتہائی قریب سے مورچہ زن ہو کر قابض فوج پر جدید اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ قابض فوج کے دیگر اہلکار اپنے ہلاک اور زخمی ساتھیوں کو چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 13 جولائی 2026 کو جھاؤ کے علاقے زیلگ میں قابض پاکستانی فوج چوکی پر راکٹ لانچروں و ایل ایم جی و اسنائپر سے حملہ کیے ،جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک اور کارروائی کے دوران، سرمچاروں نے 10 جولائی 2026 کو قلات کے علاقے توک میں گدان ہوٹل کے قریب قابض پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے قریبی فاصلے سے خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار قابض فوج کے پانچ اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور ان کی گاڑی ناکارہ ہو گئی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ 10 جولائی 2026 کو کوئٹہ کے علاقے دشت کمبیلہ میں سرمچار معمول کے گشت پر تھے کہ ان کا سامنا پاکستانی فوج کے 15 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے سے ہوا، جس میں تین بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ فوج نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی، تاہم مستعد سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں اور فوج پر حملہ آور ہو گئے۔ اس شدید جھڑپ کے دوران متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ قابض فوج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے سرمچاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن سرمچاروں نے ایک کواڈ کاپٹر کو مار گرایا۔ جھڑپ کے دوران ایک فوجی افسر نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، مگر سرمچاروں کی بروقت جوابی کارروائی میں وہ افسر مزید دو اہلکاروں سمیت ہلاک ہو گیا، جس کے بعد قابض فوج پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سرمچاروں نے 17 جون 2026 کو مستونگ کے علاقے دشت تیرامیل کے مقام پر ریل کی پٹری پر قابض فوج کی جانب سے جاسوسی کے لیے نصب کیا گیا کیمرہ فائرنگ کر کے ناکارہ کر دیا۔ اس سے قبل، 16 جون 2026 کو سرمچاروں نے مستونگ ہی کے علاقے اسپلنجی میں قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر اسنائپر سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

آخر میں بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مستونگ، قلات، کوئٹہ اور گومازی میں قابض فوج پر ہونے والے ان تمام حملوں میں 12 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article