بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں چاغی آپریشن میں پورے شہر کا محاصرہ، تھانوں اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ اور پولیس و لیویز تھانوں پر حملے سمیت اسلحات ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے مورخہ 9 جولائی 2026 کو ایک منظم و مربوط کارروائی کرتے ہوئے پورے چاغی شہر کو اپنے محاصرے میں لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں کے ہراول اور حفاظتی دستوں نے انتہائی مہارت کے ساتھ چاغی شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں سمیت اردگرد کے پہاڑی سلسلوں اور اہم گزرگاہوں پر پوزیشنیں سنبھالتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا۔ شہر کے اندرونی و بیرونی راستوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد، ناکہ بندی پر مامور سرمچاروں کے دستوں نے چاغی کی اہم شاہراہوں پر عارضی چوکیاں قائم کر دیں اور سڑکوں پر ہر قسم کی مشکوک گاڑیوں کی تلاشی کا عمل شروع کیا، تاکہ کسی بھی ممکنہ ریاستی کمک، فورسز یا مخبروں کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر بلاک کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ محاصرے کی کامیابی کے بعد، سرمچاروں کے مختلف گوریلا دستے چاغی شہر کے اندر داخل ہوئے اور انہوں نے وہاں قائم پولیس اور لیویز کے تھانوں، بینک اور دیگر سرکاری عمارتوں پر بیک وقت حملہ کر دیا۔ کارروائی کے دوران وہاں موجود تمام پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر تفتیش کے عمل سے گزارا گیا۔ تفتیش کے بعد تمام اہلکاروں کو قومی تحریکِ آزادی کے خلاف قابض فوج کا آلہ کار بننے سے باز رہنے اور قوم دشمن سرگرمیوں سے دور رہنے کی سخت تنبیہ کی گئی۔ چونکہ پولیس اہلکاروں کو بلوچ دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہ پایا گیا اس لئے جنگی اصولوں و اخلاقیات، اور انسانیت کے تحت تمام اہلکاروں کو بحفاظت رہا کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے پولیس تھانے میں موجود سرکاری اسلحہ قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔
ترجمان کے مطابق اس آپریشن کے دوران جب قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تو وہاں پہلے سے مستعد سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے پے در پے حملے کیے۔ سرمچاروں کے حملے کے نتیجے میں دشمن فوج پسپا ہو کر وہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کا اصل ہدف چاغی جیسے اہم ترین تزویراتی شہر کو اپنے کنٹرول میں لے کر دنیا کے سامنے قابض ریاست کی عمل داری کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرنا، اور یہ دکھانا تھا کہ بلوچستان پر اصل عمل داری قابض پاکستانی ریاست کی نہیں بلکہ سرمچاروں کی ہے ۔ اس کارروائی کے ذریعے ہم ریاستی شراکت داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے سرمائے کو قابض فوج کے جھوٹے بھروسے پر یہاں جھونکنے سے گریز کریں۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سرزمین سے قابض افواج کے مکمل خاتمے اور آزادیِ کے حصول تک سرمچاروں کے فیصلہ کن حملے مستقبل میں بھی مزید شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔