خضدار کے علاقے باغبانہ کے رہائشی لاپتہ قادر بخش کی بیٹی حفیظہ قادر اور دیگر اہل خانہ نے ‘وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز’ (VBMP) کے احتجاجی کیمپ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے والد کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور ان کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔
یہ پریس کانفرنس کوئٹہ پریس کلب کے سامنے گزشتہ 15 سالوں سے قائم VBMP کے تاریخی احتجاجی کیمپ میں منعقد کی گئی، جس میں تنظیم کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ بھی لاپتہ قادر بخش کے لواحقین کے ساتھ موجود تھے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے حفیظہ قادر اور اہل خانہ نے بتایا کہ ان کے والد قادر بخش کو 6 ستمبر 2026 کو آر سی ڈی روڈ، بی سی کیمپ خضدار کے قریب سے اس وقت پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا جب وہ باغبانہ سے خضدار شہر کی جانب جا رہے تھے۔ حراست میں لیے جانے کے بعد سے وہ مسلسل نامعلوم مقام پر منتقل ہیں اور ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
اہل خانہ نے بتایا کہ انہوں نے مقامی تھانے، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام سے بارہا رابطہ کیا، لیکن نہ تو گرفتاری کی وجوہات بتائی گئیں اور نہ ہی ان کی موجودگی یا سلامتی سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی قانونی جواز کے کسی شہری کو حراست میں رکھنا اور لواحقین کو لاعلم رکھنا نہ صرف آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس صورتحال نے ان کے پورے خاندان کو شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔
لاپتہ قادر بخش کے اہل خانہ اور VBMP کے رہنماؤں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے درج ذیل مطالبات پیش کیے:
لاپتہ قادر بخش کو فوری طور پر بازیاب کر کے ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔
اگر ان کے خلاف کوئی الزام یا مقدمہ ہے تو انہیں فوری طور پر آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کر کے دفاع کا حق دیا جائے۔
ان کی حراست کی وجوہات اور موجودہ خیریت کے بارے میں اہل خانہ کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ قانونی تحقیقات کرائی جائیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر لواحقین اور نصر اللہ بلوچ نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، صحافیوں، سیاسی و طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے خلاف اور قادر بخش کی باحفاظت بازیابی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔