بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6225ویں روز بھی جاری رہا۔
آج جبری لاپتہ جہانزیب محمد حسنی کی والدہ اور بیٹی نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرکے ان کی عدم بازیابی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور جہانزیب محمد حسنی کی باحفاظت بازیابی کی اپیل کی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جہانزیب محمد حسنی کو 3 مئی 2016 کو سیکورٹی فورسز نے ان کے سامنے ان کے گھر، کلی قمبرانی کوئٹہ سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔ اس واقعے کو کئی سال گزر چکے ہیں، مگر آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے انہوں نے عدالتوں، لاپتہ افراد کمیشن اور مختلف حکومتی اداروں کے دروازوں پر دستک دی ہے جبکہ اپنے پیارے کی بازیابی کے لیے پرامن احتجاج بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ان کی فریاد نہیں سنی جا رہی، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی کرب، بے چینی اور اذیت کا سامنا کر رہا ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جہانزیب محمد حسنی سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے مکمل خاتمے اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔