بی ایل ایف کارروائیاں:مستونگ، خضدار و خاران میں فوج و ڈیتھ اسکواڈ پر حملے،5اہلکارہلاک، ڈیتھ اسکواڈ کارندہ گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں مستونگ، خضدار اور خاران میں پاکستانی فوج وڈیتھ اسکواڈ پر حملے ، سڑک پر ناکہ بندی، 5 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک ڈیتھ اسکواڈ کارندے کی گرفتاری کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 8 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے دشت عمر ڈھور کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے دشمن کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 2 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ جاسوسی کے مقصد سے نصب نگرانی کے کیمروں کو بھی سرمچاروں نے فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل، 6 جولائی 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے کوئٹہ -کراچی مرکزی شاہراہ (آر سی ڈی روڈ) پر خضدار کے علاقے وڈھ میں، سنگری کے مقام پر سرمچاروں کے خلاف پیش قدمی کرنے والے قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا۔ تین فوجی گاڑیوں پر مشتمل اس قافلے پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 3 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی روز 6 جولائی کو ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر خاران اور واشک کے درمیانی علاقے ھُرماگے میں ایک اہم آپریشن کیا۔ مذکورہ علاقے میں ریاست کی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کی موجودگی کی خفیہ اور مصدقہ اطلاعات پر سرمچاروں نے خاران یکمچ سی پیک لنک روڈ پر ناکہ بندی کی۔ اس دوران شاہراہ پر عام عوام اور مسافر گاڑیوں سے زبردستی بھتہ خوری میں مصروف ڈیتھ اسکواڈ کے ایک کارندے کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے اس کا اسلحہ ضبط کر لیا گیا، جسے مزید تفتیش کے لیے سرمچاروں نے کیمپ منتقل کر دیا۔

میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ علاوہ ازیں، 5 جولائی 2026 کو سرمچاروں نے خاران ہی کے علاقے گْواش میں خاران یکمچ سی پیک لنک روڈ پر عارضی چیک پوسٹ قائم کر کے ناکہ بندی کی۔ سرمچاروں نے مسلسل تین گھنٹوں تک شاہراہ پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھا اور اس دوران وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی سخت تلاشی لی گئی۔ اس دوران سرمچاروں نے مسافروں کو بی ایل ایف کے مقاصد سے متعلق بھی آگاہی دی اور انہیں قابض فوج کی نقل و حرکت سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اپنے تمام تر عسکری اہداف حاصل کرنے کے بعد سرمچار باحفاظت اپنے ٹھکانوں کی طرف روانہ ہو گئے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ مستونگ، خضدار اور خاران میں ہونے والی ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ مقبوضہ بلوچستان کی مکمل آزادی تک قابض فورسز اور ان کے سہولت کاروں پر ہمارے حملے مزید شدت کے ساتھ جاری رہیں گے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article