حکومت بلوچستان کا شعبان میں مزید 13 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

حکومت بلوچستان نے دعویٰ کیا ہے کہ زیارت کے علاقے شعبان میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے جس میں مزید 13 مسلح افراد کو ماردیا گیا ہے ۔

حکام کا کہنا ہے کہ زیارت مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشتگردانہ واقعے کے تسلسل میں فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس کا آپریشن شعبان جاری ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سیکورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 مسلح افراد کو ہلاک کردیا گیا۔

اس کا کہنا تھا کہ آپریشن شعبان میں ہلاک مسلح افرادچ کی مجموعی تعداد 39 ہوگئی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان کے علاوہ آج صبح خضدار کے علاقے میں مسلح افراد کا پولیس اسٹیشن پرحملہ بھی پسپا کردیا گیا۔

دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں سیکورٹی ذرائع سے رپورٹ کی جارہی ہے کہ فوج اور ایف سی کے دستوں کی کارروائی کے ذریعے 8 مسلح افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، 5 سے6کی مزید ہیلی کاپٹر آپریشنز میں مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ آپریشن شعبان کے دوران دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں دہشت گردوں کےخلاف گھیرا مزید تنگ کیا گیا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے 26 مسلح افرادکو 6 اور 7 جولائی کو پہلے ہی ہلاک کیا جاچکا ہے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 75 مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ عسکری و حکومتی حلقوں کی بیانات اور 39 مسلح افراد کو مارنے کے دعوے کے باوجود ان کی شناخت اور لاشوں تک رسائی میڈیا کو نہیں دی گئی جو اب تک محض نمبر کے طور پر میڈیا کا حصہ ہیں ۔تاہم ماضی میں اس طرح کی کارروائیوں میں ہلاک کئے گئے لاشوں کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوتی رہی ہے ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article