بلوچستان کے علاقے زیارت میں گذشتہ دنوں پولیس پر مسلح افراد کے حملے اور ہلاکتوں کے بعدلواحقین نے 17 پولیس اہلکاروں کی میتوں کے ساتھ دوسرا دھرنا دیدیا ہے، اہم شاہراہیں بند ہیں،جبکہ 30 پولیس اہلکاروں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے ۔
زیارت واقعہ میں مارے جانے والے 17 پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے میتوں کے ہمراہ کوئلہ پھاٹک کے مقام پر دوسرا احتجاجی دھرنا شروع کر دیا، جس کے باعث سمنگلی روڈ سے شہر کی جانب آنے والا ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گیا۔
دوسری جانب سانحہ ہنہ اوڑک میں مارے جانے والوں کے لواحقین بھی ایئرپورٹ روڈ پر آج پانچویں روز بھی احتجاجی دھرنے پر موجود ہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
اطلاعات کے مطابق، سانحہ ہنہ اوڑک کے مارے جانے والے اہلکاروں کی تدفین تاحال نہیں ہو سکی، جس کے باعث کوئٹہ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
ادھر ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف آج کوئٹہ پہنچیں گے، جہاں وہ امن و امان کی صورتحال اور حالیہ واقعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے۔
زیارت واقعہ کے ردعمل میں ضلع زیارت کے مختلف تھانوں میں تعینات 30 پولیس اہلکاروں نے اپنی ملازمت سے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اہلکاروں نے اپنے استعفے متعلقہ افسران کو جمع کروا دیے ہیں۔
استعفے کی اصل وجوہات ابھی سامنے نہیں آ سکیں تاہم گمان کیا جارہا ہے کہ یہ زیارت واقعہ سے جڑا ہواہے۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز ضلع زیارت کے فیز-III کچھ مانگی علاقے میں ایک مسلح حملے میں 2 اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (SHOs) سمیت کم از کم 9 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے ۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز (DHQ) ہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 15 لاشیں ہسپتال لائی گئی ہیں۔