بلوچستان کے خضدار کے علاقے شہزاد سٹی میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ سربراہ شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر دھماکے اور شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، دو سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو کچھ دیر تک جاری رہا۔ واقعے کی نوعیت، ممکنہ جانی نقصان یا نقصانات اور دیگر تفصیلات کی ابھی تک سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
بلوچستان کے ضلع خضدار میں شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر حملے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جہاں مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کئی گھنٹوں سے شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے دوران ایک دھماکے میں رہائش گاہ کا مرکزی دروازہ تباہ ہو گیا، جبکہ حملہ آور احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ انہوں نے کچھ دفاعی پوزیشنوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں ہیلی کاپٹر اور ڈرون کی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات، جانی نقصان یا حملے کے محرکات کے حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
شفیق مینگل جو بلوچستان کے ضلع خضدار کے رہائشی ہیں، ایک ایسی شخصیت ہیں جن کا نام گزشتہ ایک دہائی کے دوران خطے کے تنازعات سے بھرے سیاسی اور سیکیورٹی منظر نامے میں بار بار سامنے آیا ہے۔ بلوچ قوم پرست گروپس اور انسانی حقوق کی کچھ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی پشت پناہی میں مسلح نیٹ ورک چلا تے ہیں، جسے مقامی سطح پر "ڈیتھ اسکواڈ” (death squad) کہا جاتاہے۔
30 دسمبر 2011 کو کوئٹہ کے ارباب کرم خان روڈ پر شفیق مینگل کی رہائش گاہ کے قریب انہیں ایک خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ یہ حملہ بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کی طرف سے کیا گیا تھا، اور اسے بی ایل اے کے خودکش یونٹ کا پہلا آپریشن قرار دیا گیا تھا۔ خودکش حملہ آور کی شناخت "درویش بلوچ” کے نام سے ہوئی تھی، جو بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کا ایک فدائین کارندہ تھا۔
مئی 2014 میں خضدار کے علاقے وڈھ میں ایک لیویز چیک پوسٹ پر حملے کے بعد، جس میں آٹھ لیویز اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، شفیق مینگل کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ایف آئی آر میں شفیق مینگل اور دیگر کو نامزد کیا گیا تھا، جبکہ واقعے میں ملوث بڑی تعداد میں مسلح افراد کے خلاف بھی کارروائی کی گئی تھی۔
خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبروں کی دریافت بھی شفیق مینگل کے نام سے منسوب ہوئی۔ متاثرین کے خاندانوں اور بلوچ قوم پرست حلقوں نے کہا کہ اس میں شفیق مینگل براہ راست ملوث ہیں۔
نومبر 2016 میں خضدار کے قریب شاہ نورانی مزار پر ایک خودکش حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ کچھ گروپوں نے مختلف واقعات کے سلسلے میں شفیق مینگل اور عسکریت پسند نیٹ ورکس کے درمیان روابط کا الزام لگایا ہے۔
شفیق مینگل کا نام گزشتہ برسوں کے دوران بلوچستان کے چند متنازع ترین مسائل میں سامنے آتا رہا ہے۔وہ مسلح گروہوں، جبری گمشدگیوں، تشدد اور مختلف عسکری سرگرمیوں میں ملوث قرار دیئے گئے ہیں۔