کراچی: سی ٹی ڈی کا پہلے سے جبری لاپتہ 2 نوجوانوں کی گرفتاری کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ( سی ٹی ڈی) نے کراچی میں  پہلے سے فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ 2 نوجوانوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا تعلق ایک مسلح تنظیم سے جوڑ دیا ہے۔

کراچی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ترجمان نے منگل کے روز کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کراچی میں سی ٹی ڈی اور ایک وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے دو ارکان کو حراست میں لیا گیا۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد کراچی میں حساس تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سی ٹی ڈی نے گرفتار افراد کی شناخت فرید بلوچ اور مجاہد بلوچ کے ناموں سے کی ہے، تاہم گرفتاری ظاہر کیے گئے دونوں نوجوان گزشتہ سال دسمبر میں بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تجابان سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنے تھے۔

گرفتار ظاہر کیے گئے نوجوانوں کے لواحقین اور بی وائی سی کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق سترہ سالہ طالب علم فرید ولد اعجاز کو 19 دسمبر 2025 کو کیچ کے علاقے تجابان میں ایف سی کیمپ بلائے جانے کے بعد لاپتہ کیا گیا تھا۔

اٹھارہ سالہ طالب علم مجاہد دلوش کو بھی گزشتہ سال 23 دسمبر کو مذکورہ علاقے سے پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئی تھیں، جس کے بعد سے دونوں نوجوان منظرِ عام پر نہیں آ سکے تھے۔

واضح رہے کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے اس سے قبل بھی کراچی اور دیگر علاقوں سے جبری گمشدگی کا شکار افراد کو مسلح تنظیموں کا رکن ظاہر کرکے ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے، جبکہ متعدد افراد بعد ازاں جعلی مقابلوں میں قتل کیے جا چکے ہیں۔

منظرِ عام پر لائے گئے نوجوانوں کے لواحقین نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بچے پہلے ہی ریاستی اداروں کی تحویل میں تھے، لواحقین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سی ٹی ڈی ان کے بچوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article