بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے سیاحتی علاقے ہنہ اوڑک میں مبینہ طور پر مسلح افراد اور مقامی افراد کے درمیان کشیدگی وہلاکتوں کے بعد حکومتی فورسز کی جانب سے شروع کی گئی آپریشن میں 3 مسلح افراد کی ہلاکت اور 2 اہلکاروں کی زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ وزیر داخلہ کے مطابق مسلح افراد نے 7 افراد کو اغوابھی کیا گیاہے ۔
کٹھ پتلی وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو اور معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے پریس کانفرنس اور بیانات میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات مسلح افراد نے ہنہ اوڑک کے مقامی لوگوں پر حملہ کیا، جہاں علاقہ مکینوں نے بہادری سے ان کا مقابلہ کر کے انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر سیکورٹی فورسز کا مسلح افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے، جس کے دوران 2 اے ٹی ایف اہلکار زخمی جبکہ 3 مسلح مارے گئے ہیں، تاہم مسلح افراد 7 لوگوں کو اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ ہنہ اوڑک میں چیک پوسٹ قائم کردی گئی ہے اور سیکورٹی فورسز فل ایکشن میں ہیں، کیونکہ عسکریت پسند چاہتے ہیں کہ عوام ہنہ اوڑک چھوڑ جائیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان عسکریت پسندوں کو بھارت سپورٹ کر رہا ہے اور افغانستان اپنی سرزمین ان کو استعمال کرنے کے لیے دیتا ہے۔
دوسری جانب کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان اور ہنہ اوڑک کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہواجس میں امن کی بحالی کے لیے ہنہ اڑڑک اور گردونواح میں مسلح افراد کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ مظاہرین سے بات چیت کے لیے وزیر داخلہ ضیااللہ لانگو اور وزیر بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ مذاکراتی کمیٹی مظاہرین، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے فوری رابطہ کرے گی۔
اجلاس میں شورش زدہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے فوری طور پر جوائنٹ چیک پوسٹ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جوائنٹ چیک پوسٹ آج سے فعال ہوگی، تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر سیکورٹی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
اجلاس میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہنہ اوڑک کے افسوسناک واقعے کے ذمہ دار عسکریت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اور ان کے خلاف کارروائی منطقی انجام تک جاری رہے گی، ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح کشیدگی میں ہلاک افراد کے لواحقین اور متاثرین کو آئندہ دو روز میں مالی معاونت اور معاوضوں کی ادائیگی کا عمل شروع کی جائے گی۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، مظاہرین کے تحفظات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔