بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے نواحی اور معروف تفریحی مقام ہنہ اوڑک کے قریب کلی ببری میں بھاری اسلحے سے لیس عسکریت پسندوں کے بڑے حملے اور مقامی قبائلیوں کی جانب سے مزاحمت کے نتیجے میں 4 مقامی افراد ہلاک، 9 زخمی اور متعدد شہریوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
بلوچستان حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے کے پیچھے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) ملوث ہے۔
مظاہرین اور احتجاج کی قیادت کرنے والے مفتی محمد اعظم کاکڑ کے مطابق، اتوار کی رات 300 کے لگ بھگ مسلح افراد نے جدید ترین بھاری اسلحے اور 2 سے 3 ڈرون کیمروں کی مدد سے کلی ببری پر حملہ کیا۔ مسلح افراد رات 10 بجے تک علاقے میں موجود رہے۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان کا مقابلہ کیا، جس دوران جھڑپوں میں 4 قبائلی افراد ہلاک ہوئے۔
مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ مسلح افراد نے 13 مقامی لوگوں کو اغوا کیا ہے، جبکہ وزیرِ داخلہ بلوچستان نے مغویوں کی تعداد 7 بتائی ہے۔
حکومتِ بلوچستان نے اس حملے کے لیے واضح طور پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق، ٹی ٹی پی کے شدت پسند کوئٹہ کے مشرق میں واقع ‘زرغون غر’ کے پہاڑی سلسلے سے اس پشتون آبادی والے علاقے میں کارروائی کے لیے داخل ہوئے تاکہ کوئٹہ کے امن کو سبوتاژ کر سکیں۔
وزیرِ داخلہ ضیا اللہ لانگو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ فورسز کے جوابی آپریشن میں 3 شدت پسند مارے گئے ہیں اور انسدادِ دہشت گردی فورس (AFT) کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
اگرچہ حکام نے اسے ٹی ٹی پی کی کارروائی قرار دیا ہے، تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے تاحال اس کی باقاعدہ ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ مسلح افراد گزشتہ دو تین ماہ سے علاقے میں آ کر مقامی آبادی کو ہراساں کر رہے تھے اور ان سے راشن و مدد کا مطالبہ کر رہے تھے، جس کے خلاف پہلے بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا اور حکام کو آگاہ کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے آپریشن کی یقین دہانی کے باوجود کوئی عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نتیجہ اس بڑے حملے کی صورت میں نکلا۔ واقعے کے خلاف کوئٹہ کینٹ کے قریب ایئرپورٹ روڈ پر شدید احتجاجی دھرنا بدستور جاری ہے اور شہریوں کا مطالبہ ہے کہ جب تک ان مسلح افراد کے خلاف مکمل صفایا نہیں ہوتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
ماہرین اور سینئر صحافیوں کے مطابق، ہنہ اوڑک جیسے پشتون اکثریتی علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حملہ ہے۔ اگرچہ بلوچستان کے دیگر شمالی اضلاع (ژوب، لورالائی، پشین) میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور کارروائیاں رہی ہیں، لیکن کوئٹہ کے اتنے قریب اس نوعیت کی کارروائی خطے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور ٹی ٹی پی کے پھیلاؤ کا واضح اشارہ ہے۔