بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے ) نے اپنے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر تنظیم کی ششماہی عسکری کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران بلوچ لبریشن آرمی نے مجموعی طور پر 369 عسکری حملوں میں دشمن فوج، خفیہ اداروں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے 884 کارندوں کو ہلاک کیا، جن میں دشمن کی معاونت کرنے والے 43 آلہ کار بھی شامل ہیں۔ ان تمام کارروائیوں کے نتیجے میں قابض فوج کے 248 سے زائد اہلکار اور گماشتے شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی نے سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے لے کر پہاڑی سلسلوں اور شہری مراکز تک قابض پاکستانی فوج کو شدید اور مربوط حملوں میں پسپائی اور شکست سے دوچار کیا۔ ایک منظم عسکری حکمت عملی اور جامع تنظیمی پالیسی کے تحت بی ایل اے کی کارروائیوں کا نہ صرف دائرہ کار وسیع کیا گیا بلکہ ان کی شدت اور ہلاکت خیزی میں بھی غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ تنظیم کے سرمچاروں نے کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کی مضبوط چھاؤنیوں اور عسکری کیمپوں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر زمین بوس کردیا، جبکہ بلوچ نسل کشی میں براہِ راست ملوث دشمن کے خفیہ اداروں کے نیٹ ورک پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ان کے اہلکاروں کو دفاتر کے اندر گھس کر منطقی انجام تک پہنچایا۔
بی ایل اے کے مطابق ان حملوں کے دوران بی ایل اے کے سرمچاروں نے دشمن کے جدید اور مضبوط سیکیورٹی حصاروں کو مؤثر طریقے سے عبورکیا اور ان کے درجنوں عسکری اہلکاروں کو ہلاک کر کے ان کی فیلڈ موومنٹ اور نقل و حرکت کو مزید محدود کردیا۔ دوسری جانب، متبادل جنگی حکمت عملی کے تحت مرکزی شاہراہوں پر ”معاشی ناکہ بندی” کی پالیسی نافذ کی گئی، جس کے ذریعے قابض ریاست اور بلوچ وسائل کے بے دردی سے استحصال میں شریک استحصالی کمپنیوں کی سپلائی لائنز کو نشانہ بنا کر انہیں بھاری معاشی نقصانات سے دوچار کیا گیا۔
تنظیم کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران بلوچ لبریشن آرمی نے مجموعی طور پر 369 عسکری حملوں میں دشمن فوج، خفیہ اداروں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے 884 کارندوں کو ہلاک کیا، جن میں دشمن کی معاونت کرنے والے 43 آلہ کار بھی شامل ہیں۔ ان تمام کارروائیوں کے نتیجے میں قابض فوج کے 248 سے زائد اہلکار اور گماشتے شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ان آپریشنز کے دوران سرمچاروں نے قابض فوج اور اسکے ذیلی عسکری اداروں سے مختلف نوعیت کے 277 جدید ترین ہتھیار اور بھاری مقدار میں جنگی ساز وسامان ضبط کیا۔ مزید برآں، دشمن کے 71 اسٹریٹجک مقامات پر مکمل کنٹرول حاصل کیا گیا، جن میں قابض فوج کے باقاعدہ کیمپ، پولیس و لیویز کے تھانے، حفاظتی چوکیاں، ڈیتھ اسکواڈز کے خفیہ ٹھکانے اور مواصلاتی رابطے توڑ کر بیک وقت چودہ شہروں پر عارضی کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے۔ معاشی ناکہ بندی کے تسلسل میں مرکزی تجارتی شاہراہوں پر 122 سے زائد مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کرکے دشمن کی عسکری رسد کو روکا گیا اور 23 اہم پلوں کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا، جبکہ 16 مقامات پر کامیاب چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے قابض فوج کے اہلکاروں سمیت 125 آلہ کاروں کو باقاعدہ حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ ان چھ مہینوں کے دوران مختلف نوعیت کے 125 بارودی اور مائن دھماکوں میں دشمن کی دفاعی گاڑیوں اور کاروانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں دشمن فوج اور ریاستی معاشی نیٹ ورک سے منسلک 305 گاڑیاں، 22 جدید کواڈ کاپٹر، 10 ہائی ٹیک سرویلنس کیمرے، 15 ٹرانسمیشن لائنیں اور نگرانی کے ٹاورز تباہ کیئے گئے، جبکہ دشمن کی مادی سپلائی کو مفلوج کرنے کے لیے 25 ریلوے ٹریکس سمیت 2 ٹرینوں کو بھی مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔
تنظیم کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے فدائی یونٹ ”مجید بریگیڈ” نے 15 مختلف مقامات پر انتہائی اعلیٰ سطح کے فدائی آپریشنز سرانجام دیئے، جن میں مجموعی طور پر 52 فدائین نے وطن کی آزادی کے مقصد پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی، دیگر خصوصی دستوں میں سے ہراول دستے ‘فتح اسکواڈ’ نے 12، ‘اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ’ (ایس ٹی او ایس) نے 15، ‘قہر’ ونگ نے 4 اور سمندری حدود کے محافظ دستے ‘حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس’ (ایچ ایم ڈی ایف) نے 1 آپریشن سرانجام دیا، جبکہ 19 انتہائی حساس اور خصوصی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ نے بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا۔