کوئٹہ: ہنہ اوڑک میں کشیدگی سے 4 افراد ہلاک ،مکینوں  کا احتجاج، ایمرجنسی نافذ ،چیک پوسٹ قائم کرنے کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں کشیدگی سے 4 افرادہلاک ہوگئے جس کے ردعمل میں مکینوں نے احتجاجاًروڈ بلاک کردیا جبکہ دوسری جانب حکومت نے علاقے میں سیکیورٹی چیک پوسٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

کوئٹہ کے علاقے ہنہ وڑک کے مقامی رہائشیوں نے علاقے میں امن و امان کی خراب صورتحال کے خلاف بی اے مال کے سامنے روڈ احتجاجاً بند کر دیا ہے، جس کے باعث ہر قسم کی آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔

ہنہ وڑک میں آج ایک بار پھر حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں مبینہ طور پرمقامی قبائل اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی ہے۔ اس دوران 4 افراد ہلاک متعدد نوجوان زخمی ہو گئے ہیں۔

بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ جھڑپ میں 7مقامی افراد زخمی، ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف سی، پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز علاقے میں موجود، مسلح افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ مقامی افراد سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

دریں اثنا ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کی موجودگی اور مقامی قبائل کیساتھ لڑائی کے بعد حکومت نے کلی بابری میں ایف سی اور پولیس کرنے کا مشترکہ چیک پوسٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

حکومتِ بلوچستان کی نوٹیفکیشن کے مطاق کلی بابری، ہنہ اُرک میں پولیس اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ قائم ہوگی۔

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مقامی آبادی کی جانب سے زمین فراہم کرنے اور سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ چیک پوسٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں محکمہ داخلہ بلوچستان نے پولیس اور ایف سی کو مقام، نفری اور وسائل سے متعلق مشترکہ رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

نئی مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ کا مقصد علاقے میں امن و امان، فوری ردِعمل اور سیکیورٹی رابطوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article