مستونگ میں پاکستانی فورسز کا ایک شہری کے گھر پر ڈرون حملہ ،50 سے زائد مال مویشی ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پاکستانی فورسز کی جانب سے ایک شہری کے گھر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایاگیا جس سے 50 سے زائد مال مویشیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے میڈیا کو تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مستونگ کے علاقے دشت کمبیل میں محمد ابراہیم اور ان کے بھائی کے گھر پر ڈرون حملہ نہایت تشویشناک ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 3 جون کو مستونگ کے علاقے دشت کمبیل میں ریاستی فورسز کی جانب سے ایک عام شہری محمد ابراحیم کے گھر میں ڈرون حملہ کیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا مگر حملے میں اس خاندان کے 50 سے زائد مال مویشی ہلاک ہوئے، جو غریب خاندان کا واحد معاشی سہارا تھے۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں روزگار کے مواقع سے محروم عوام بیشتر گلہ بانی کے پیشے سے وابسطہ ہے،وہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں اپنے مال مویشیوں کے ساتھ زندگی گزر بسر کرتے ہیں۔ مگر تکلیف ناک امر یہ ہے کہ سر زمین کے یہ محنت کش باشندے ہمیشہ ریاستی جارحیت کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔ کئی مرتبہ آپریشنوں میں انکے گھر جلائے جاتے ہیں مرد و خواتین ماورائے عدالت قتل کئے جاتے ہیں، جبری گمشدہ کئے جاتے ہیں، یا انکے واحد زریعہ معاش یعنی انکے مال مویشیوں کو مارا جاتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایسے افراد جو کو معاشرے میں پہلے ہی حاشیے پر ہیں انہیں انکے مال مویشی سے محروم کرنا ، یا براہراست جبر کا نشانہ بنانا انسانیت سوز ظلم ہے۔نا صرف انسانی زندگی کا تحفظ ریاست کے زمے ہیں بلکہ انکے گھر و معاش کا زمہ بھی ریاست پر ہے، مگر ریاست پاکستان میں نا کسی بلوچ کو جان کی امان ہے نا انکے گھر بار و مال مویشی تاراج ہونے سے محفوظ ہے۔ یہ تمام امور بلوچ نسل کشی کا حصہ ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس ریاستی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اقوامِ متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی مظالم، ڈرون حملوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے، پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے تحت جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article