بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں گوادر سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے معمارِ نو اکیڈمی کے پرنسپل عبدالحق بلوچ کے حراستی قتل اور لاش ملنے کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں معمارِ نو اکیڈمی کے پرنسپل اور بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے رہنما رمضان بلوچ کے چھوٹے بھائی، عبدالحق بلوچ مہینوں کی جبری گمشدگی کے بعد مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عبدالحق کو فروری میں گوادر سے پاکستانی فوج نے اغوا کیا تھا، جس کے بعد انہیں جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ آج، دو دیگر افراد کے ساتھ، ان کی لاش، جس پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں، گوادر کے ضلع جیونی کے علاقے پانوان سے برآمد کی گئی ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ انہیں دورانِ حراست قتل کیا گیا اور ان کی لاش کو پھینک دیا گیا۔
بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ عبدالحق بلوچ نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انہوں نے مقامی بچوں کو تعلیم دینے کے لیے مشکے میں معمارِ نو اکیڈمی قائم کی۔ تاہم، پاکستانی فوج نے زبردستی اسکول بند کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ حوصلہ ہارے بغیر، انہوں نے بعد میں گوادر میں ایک اور معمارِ نو اکیڈمی کی بنیاد رکھی، جہاں انہوں نے بچوں کو تعلیم دینا جاری رکھا۔ فروری میں، انہیں پاکستانی فوج نے اغوا کر لیا اور وہ لاش برآمد ہونے تک جبری طور پر لاپتہ رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے بڑے بھائی، بی این ایم کے رہنما رمضان بلوچ بھی 25 جولائی 2009 کو جبری طور پر لاپتہ کر دیے گئے تھے۔ انہیں اوتھل میں زیرو پوائنٹ سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ مشکے سے گوادر جا رہے تھے اور وہ تب سے لاپتہ ہیں۔ وہ پاکستانی فوج کے زیرِ انتظام نامعلوم حراستی مراکز میں قید ہیں۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ کا کہنا تھا کہ عبدالحق بلوچ کا قتل اس وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے جس میں بلوچستان میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل گوادر میں ایک نجی اسکول کے سربراہ زاہد اسدانی کو بھی ریاستی اداروں نے قتل کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں، بلوچ پروفیسر غمخوار حیات کو بھی اسی طرح قتل کیا گیا۔ یہ واقعات بلوچستان میں تعلیم اور عوامی خدمت کے لیے وقف لوگوں کو درپیش شدید خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں معاشرے کا کوئی بھی طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ اساتذہ، طلبہ، وکلا، صحافی، ڈاکٹر اور انسانی حقوق کے محافظ، سبھی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، من مانی حراست اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کی زد میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، حراستی تشدد اور ماورائے عدالت قتل کا بڑے پیمانے پر چلنے والا یہ سلسلہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
آخر میں بی این ایم چیئر مین نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور تمام متعلقہ قومی و بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے بحران کا فوری نوٹس لیں، عبدالحق بلوچ کے قتل اور جبری گمشدگیوں و ماورائے عدالت پھانسیوں کے دیگر کیسز کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں، اور ذمہ داروں کا احتساب کریں۔