بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی یو سی) نے اپنے لٹریچر ڈیپارٹمنٹ ‘برمش پبلیکیشنز’ کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے تحریر کردہ ایک نئے فکری کتابچے “Nation as Network: کا فکری مطالعہ” کی جلد اشاعت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ کتابچہ معروف مصنفہ وکٹوریہ برنال کی شہرہ آفاق کتاب "Nation as Network” کا گہرا فکری اور تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق، اس کتابچے میں قوم، تارکینِ وطن (Diaspora)، شہریت، ڈیجیٹل سیاست اور ریاستی طاقت جیسے بنیادی اور اہم مباحث کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ کتابچے میں اس امر کی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز نے سیاسی برادریوں اور قومی سرحدوں سے ماورا شناختوں (Transnational Identities) کو کس طرح ایک نئی شکل دی ہے اور وہ قومی تحریکوں پر کیا اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
کتابچے کی مصنفہ نے وکٹوریہ برنال کی اریٹیریا اور وہاں کے تارکینِ وطن پر مبنی نسلیاتی تحقیق (Ethnographic Study) کا حوالہ دیتے ہوئے قارئین کو جدید سیاسی اصطلاحات، جیسے “Sacrificial Citizenship” (قربانی پر مبنی شہریت) اور “Infopolitics” (اطلاعاتی سیاست) سے متعارف کرایا ہے۔ یہ تصورات ڈیجیٹل عہد میں قوم پرستی، سیاسی شرکت اور مزاحمت کی جہتوں کو سمجھنے میں کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لٹریچر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اس اشاعت کا بنیادی مقصد سیاسی فکر کو ایک منظم، عام فہم اور قابلِ رسائی انداز میں ان قارئین تک پہنچانا ہے جو تنقیدی نظریات، قومی تحریکوں، اور ریاست، معاشرے و ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات کو گہرائی سے سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ معلوماتی اور فکری کتابچہ جلد ہی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے باضابطہ ٹیلیگرام چینل پر آن لائن مطالعے اور ڈاؤن لوڈنگ کے لیے دستیاب کر دیا جائے گا۔