بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور سپلائی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ کوئٹہ اور تفتان ہائی وے پر گیس فیلڈ کی سپلائی گاڑی اور آئل باؤزر پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب سیکیورٹی فورسز نے ‘کاری ڈور’ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔
بتایا جا رہا ہے کہ فورسز اپنی چوکیوں پر راشن اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اس دوران انہیں حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع نے جھڑپوں کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، تاہم سرکاری حکام کی جانب سے اب تک نقصانات کی تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب کوئٹہ کے قریبی علاقے ڈغاری میں نا معلوم مسلح افراد نے کرخ (زرغون) گیس فیلڈ کی طرف راشن لے جانے والی ایک سپلائی گاڑی کو روک لیا۔
مسلح افراد گاڑی اور اس کے ڈرائیور کو اپنے ساتھ نامعلوم مقام کی طرف لے گئے ہیں۔
اس واقعے کی ذمہ داری اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے، تاہم ماضی میں بلوچ مسلح تنظیمیں اس علاقے میں گیس فیلڈز اور ان کی سپلائی لائنز کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔
شاہراہوں پر جاری حملوں کے سلسلے میں ایک اور کارروائی کوئٹہ-تفتان ہائی وے پر جدید آباد ریلوے کراسنگ کے قریب پیش آئی، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک آئل باؤزر کو آگ لگا دی۔
اس تازہ ترین واقعے کے بعد دالبندین، نوشکی اور مستونگ کی اہم شاہراہوں پر رواں ہفتے نشانہ بننے والی گاڑیوں کی مجموعی تعداد 18 ہو گئی ہے۔
اگرچہ ان حالیہ حملوں کی فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم کہا جارہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے یہ شاہراہ مبینہ طور پر بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے اثر و رسوخ یا کنٹرول میں ہے۔