ایران کا حملے کے بعد خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے ’غیر مجاز‘ علاقے سے گزرنے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا تھا، لیکن امریکہ نے اس بہانے ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملہ کیا۔

آئی آر جی سی نے ان حملوں کو جنگ بندی اور امریکی وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیا، اور دعویٰ کیا کہ اس کے جواب میں ’خطے میں امریکی فوجی تعیناتی کے مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

اہداف کے مقام، حملے کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے مطابق آبنائے ہرمز میں ٹریفک کو کنٹرول کرنا ایران کی ذمہ داری ہے۔

آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے دہرائے گئے تو ایران کا ردِعمل زیادہ وسیع ہوگا۔

پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے ’حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔‘

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے کا جواب دیا جائے گا۔

بیان کے مطابق ایران کا ردعمل ’تیز اور فیصلہ کن ہو گا، اور وہ ایسے وقت اور مقام پر کیا جائے گا جس کا انتخاب ایران خود کرے گا۔‘

پاسداران انقلاب نے اپنے ابتدائی ردعمل میں مزید کہا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا ردعمل ’سخت جواب‘ سے دیا جائے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article