امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے جوہری معاہدے کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا تھا اور اس کے لیے ایک میزائل بھی نہیں چلانا پڑا تھا۔
سنیچر کو ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں انتخابی مہم کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے کیونکہ انھوں نے ایسا معاہدہ کیا تھا جس کے بارے میں سب متفق تھے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے ایک میزائل بھی نہیں چلانا پڑا، میں نے صرف سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا تھا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سنہ 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی اور ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اوباما نے کہا کہ ’انھوں نے معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور یہ جنگ شروع کر دی۔ اب سات ماہ گزر چکے ہیں اور انھیں فتح کا اعلان کیے بھی چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ تو یہ جنگ کیسی جا رہی ہے؟‘
سابق امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکی شہری ہلاک ہوئے، سینکڑوں زخمی ہوئے اور امریکہ کے میزائلوں کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے۔‘
اوباما نے کہا کہ ’اب آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے معاملے پر عملاً ایران کو ’ویٹو کا اختیار‘ حاصل ہو گیا ہے۔‘ ان کے مطابق اس صورتِ حال کے باعث امریکہ میں تیل، ڈیزل اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں اوباما نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ملک کے اہم مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے معمولی معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔
یہ خطاب تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کیا گیا۔