ہم نے میزائل سے نہیں،سفارتکاری سے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا، اوباما

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے جوہری معاہدے کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا تھا اور اس کے لیے ایک میزائل بھی نہیں چلانا پڑا تھا۔

سنیچر کو ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں انتخابی مہم کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے کیونکہ انھوں نے ایسا معاہدہ کیا تھا جس کے بارے میں سب متفق تھے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے ایک میزائل بھی نہیں چلانا پڑا، میں نے صرف سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا تھا۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سنہ 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی اور ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اوباما نے کہا کہ ’انھوں نے معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور یہ جنگ شروع کر دی۔ اب سات ماہ گزر چکے ہیں اور انھیں فتح کا اعلان کیے بھی چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ تو یہ جنگ کیسی جا رہی ہے؟‘

سابق امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکی شہری ہلاک ہوئے، سینکڑوں زخمی ہوئے اور امریکہ کے میزائلوں کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے۔‘

اوباما نے کہا کہ ’اب آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے معاملے پر عملاً ایران کو ’ویٹو کا اختیار‘ حاصل ہو گیا ہے۔‘ ان کے مطابق اس صورتِ حال کے باعث امریکہ میں تیل، ڈیزل اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں اوباما نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ملک کے اہم مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے معمولی معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔

یہ خطاب تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کیا گیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article